کہتے تھے ، میری جاگیر دوسال تک حضرت قاری محمدیٰسین صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا عبد الستار صاحب علیہماالرحمہ کے یہاں تھی، اﷲ تعالیٰ اس پورے گھرانے کو جزائے خیر عطا فرمائے۔)
میں احیاء العلوم سے نکلتا اور مولانا اشرفیہ سے تشریف لاتے، اور ایک جگہ عموماً ملاقات ہوجاتی ، پھر ہم دونوں ساتھ ساتھ جاتے ، میری منزل پہلے آجاتی، میں سلام کرکے اپنی جگہ رک جاتا، مولانا آگے بڑھ جاتے، میں بچہ اور مولانا جواں سال عالم ، بظاہر کوئی جوڑ نہ تھا ، پھر مسلک کا بھی فرق تھا، مگر مولانا میں وہ شدت نہ تھی ، جو ہر بریلوی مسلک کے علماء میں عموماً پائی جاتی ہے، انھیں مطالعہ کا بہت شوق تھا ، وہ اس مختصر ہم سفری میں مجھے شوق دلانے کے لئے اپنے مطالعہ کے ذوق کا تذکرہ کرتے ، میں سنتا اور جی جی کرتا رہتا، مجھے بھی مطالعہ کا جنون تھا، اس کم عمری میں ہی میں نے کتابوں کا خاصا ذخیرہ دماغ میں اتار لیا تھا ، مگر ان کے رُعب اور اپنی کم عمری کی وجہ سے کچھ اظہار نہیں کرپاتاتھا ، مگر روزانہ کی ملاقاتوں میں مولانا کی تواضع وفطری سادگی نے مجھے قدرے بے تکلف کرلیا ، اب میں بھی کچھ کچھ اپنے مطالعہ کا تذکرہ کرنے لگا، مولانا اس زمانے میں مولانا آزاد کی کتابوں اور مضامین سے خاص شغف رکھتے تھے ۔ مولانا نے ان ملاقاتوں کو مدۃ العمر یادرکھا، یہ ان کے مزاج اور طبیعت کی بڑائی کی بات تھی ، حج کے سفر میں میرے بچپن کی ملاقات کام آئی، پھر ہم لوگ ایک ہی بس پر سوار ہوئے ، اﷲ کاانتظام تھا کہ ہم لوگوں کا جو معلم تھا ، وہی مولانا کا بھی معلم تھا ، اور رہائش بھی ان کی اور میری ایک ہی بلڈنگ میں تھی ، بلکہ ایک ہی منزل پر، بس کمرہ الگ تھا ، مگر متصل! مولانا بھی بیمار تھے ، ان کی اہلیہ بھی علیل تھیں ، خدمت کی سعادت حاصل ہوئی ۔
اب سنئے ! مولانا عبد الرب صاحب کی داستان! وہ بھی ہماری بلڈنگ کے پاس اتر گئے، جس کمرے میں میرا اور حاجی عبد اﷲ کانام تھا ، اس میں چار آدمیوں کا بستر تھا ، مگر بروقت نام دو ہی آدمیوں کا تھا،مولانا عبد الرب صاحب بھی اسی میں آگئے اخیر تک اس میں کوئی اور نہ آیا ، اس لئے کشادگی کے ساتھ رہنے کا موقع ملا، بعد میں مولانا نے وہ بلڈنگ