فاصلہ پر! اس صورتحال میں ملاقاتیں تو ہوسکتی ہیں ، مگر رفاقت کاامکان نہیں ، نہ مکہ مکرمہ میں ، نہ منیٰ میں ، نہ عرفات میں ، نہ مزدلفہ میں ، نہ مدینہ طیبہ کے سفر میں اور نہ مدینہ طیبہ کی رہائش میں ! دل دھڑک گئے ،اور ہر دھڑکن دعا بن گئی، یا اﷲ آپ قاضی الحاجات ہیں ، یہ سارا مسئلہ آپ کے سپرد ہے۔
اس قضیہ سے فارغ ہوکر مکہ مکرمہ جانے کا مرحلہ تھا ، مکتب الوکلاء کے کارندے سامان ایک جگہ اتارچکے تھے ، حج کمیٹی کے خدام حاجیوں کو مکہ مکرمہ لے جانے والی بس پر پہونچانے کے انتظام میں لگے ہوئے تھے ، میں نے ایک طرف دیکھا کہ ایک جانی پہچانی صورت ، نہایت کس مپرسی اور پریشانی کے حال میں ایک جگہ احرام کی حالت میں فروکش ہے، ایک بوڑھا اور ضعیف حاجی جو بظاہر بیمار سا لگ رہا تھا، میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا، مصافحہ کیا ، اپنا نام بتایا، وہ پہچان گئے ، چہرے پر مسرت کی لہر دوڑ گئی ، میں نے پوچھا آپ تنہا ہیں ، کہنے لگے اہلیہ ساتھ ہیں ، وہ ایک طرف سمٹی بیٹھی تھیں ، اور کوئی ساتھ میں نہیں ہے؟ فرمایا نہیں ! اب آپ ساتھ ہیں ، تو کسی کی ضرورت نہیں ، میں خدمت کے لئے حاضر ہوں ، میں نے عرض کیا ۔ یہ بریلوی مسلک کے مشہور عالم اور خطیب مولانا مظفر الحسن صاحب تھے ، جو عموماً ظفر ؔ ادیبی کے نام سے معروف تھے ، میری ان سے جان پہچان اس زمانے سے تھی، جب میں جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور ، اعظم گڈھ میں زیر تعلیم تھا ، اور بارہ تیرہ سال میری عمر تھی ، اور مولانا اس وقت جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں بڑے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے ، دونوں مدرسوں میں صبح کے وقت تعلیم کی چھٹی قریب قریب ایک ہی وقت ہوتی تھی ، مولانا کا جہاں مکان تھا اسی کے قریب ایک بزرگ حضرت قاری محمدیٰسین صاحب علیہ الرحمہ کے یہاں میری جاگیر تھی۔( جاگیر مبارک پور کی ایک اصطلاح ہے، احیاء العلوم ہو یا اشرفیہ، مبارک پور کے مخیرین کے یہاں دستور تھا کہ وہ مدرسہ کے باہری طلبہ میں سے کسی ایک کو اہل مدرسہ سے مانگ لیتے تھے ، اور اپنے گھر انھیں بلاکر بڑے اعزاز واکرام سے کھانا کھلاتے تھے ، یہ طلبہ گھر کے ایک فرد بن جاتے تھے ، آپس میں محبت قائم ہوجاتی تھی ، اسی کو ’’جاگیر‘‘