مولانا کے تیور دیکھ کر اس کا لہجہ نرم ہوگیا، اچھا مولانا! کل آئیے، کوئی چانس تو نہیں ہے ، لیکن بہرحال کل آئیے، دوسرے دن مولانا گئے ، اور شام کو ہنستے مسکراتے واپس آئے کہ کل کی فلائٹ میں آپ کے ساتھ میری سیٹ ہوگئی ، یہ کیسے ہوا؟ آج میں دفتر میں گیا ، تو انور (فلائٹ ترتیب دینے والا) دور ہی سے دیکھ کر مسکرایاکہ مولانا آپ کی قسمت بہت زوردار ہے، کل کی فلائٹ میں ایک خاتون حجن کے انتقال کی خبر آگئی ہے ، ان کی سیٹ آپ کو دی جارہی ہے۔
یہ سب کام ہوگیا، کل جب جہاز پرسوار ہونا ہوا، تو مولانا عبد الرب صاحب روک دئے گئے، کہ یہ آپ کی سیٹ نہیں ہے ، ایک خاتون کی سیٹ ہے، بتایا گیا کہ اس خاتون کا انتقال ہوگیا ۔ بورڈنگ کارڈدینے والے نے انکار کردیا کہ ہمیں علم نہیں ، پھر تھوڑی دیر کے بعد اس کے پاس اطلاع آگئی ، اور ہم لوگ ایک ہی فلائٹ سے جدہ ایرپورٹ پر اتر گئے ۔ جدہ ایرپورٹ پر اترنے کے بعد ایک نیا مسئلہ پیداہوا، وہ یہ کہ مولانا عبد الرب صاحب کو اصرار تھا کہ اس پورے سفرمیں ساتھ رہیں گے ۔ کون حاجی کس معلم کی نگرانی میں ہوگا، یہ بات جدہ ایرپورٹ پر طے ہوتی ہے، اگر ہم دونوں کے معلم علیٰحدہ علیحدہ متعین ہوئے تو ساتھ رہنے کا امکان ختم ہوجائے گا ، بمبئی تو اپنا ملک تھا ، وہاں کے عملہ سے لڑ اجھگڑا جاسکتاتھا ، سعودی عرب میں تو دم مارنے کی مجال نہیں ! اب کیا ہوگا، اﷲ ہی کی طرف لو لگانی ہے، لو تو ہر جگہ اسی کی جانب لگانی ہے ، لیکن کہیں اسبابِ ظاہری مساعدت کرتے ہیں ، وہاں امید زیادہ ہوتی ہے، اور کہیں سرے سے اسباب کی مساعدت ہوتی ہی نہیں ، وہاں ایک سہارے کے علاوہ اور کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ در حقیقت اسی جگہ اﷲ کی مدد جلد آتی ہے، مگر آدمی اسیرِحلقہ ٔ اسباب ہوتا ہے ، اس لئے اسباب کے سہارے اس کی امید زیادہ رفتار پکڑتی ہے۔
پاسپورٹوں پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قیام کی تفصیلات کے اسٹیکر لگ رہے تھے ، اسی اسٹیکر میں معلم کی تعیین بھی ہورہی تھی، ہم دونوں کے پاسپورٹ جب اسٹیکر لگ کر واپس آئے تو وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا ، دونوں کے معلم الگ ، دونوں کی رہائش گاہ جداگانہ، کافی