کہنے لگے تب تو آپ لوگ واقعی دیوانے ہیں ، دس بجے کے بعد فوٹو کھنچوائیں گے ، شام تک وہ دے گا، پھر کب فارم بھریں گے اور کب جمع کریں گے ؟ اور وقت بالکل نہیں ہے۔ ہم لوگ وہاں سے شفقت ومحبت کی ڈانٹ سن کر اٹھے، سویرے کا وقت تھا، ایک فوٹوگرافر اپنی دکان کی صفائی کررہا تھا، ہم لوگ اس میں گھس گئے ، اسے صورتحال بتائی ، تو اس نے ترس کھاکر کیمرے کی آنکھ کھول دی، اور گیارہ بجے تک دینے کا وعدہ کرلیا۔
پھر فارم بھرکر ۱۲؍ بجے سے پہلے حج کمیٹی میں جمع کردیا۔ قاری صاحب نے اپنے ایک معتمد آدمی سے بات کررکھی تھی ، فارم بآسانی جمع ہوگیا۔
فارم جمع ہوگیا ، اب دل دھڑک رہا ہے کہ دیکھئے منظوری ہوتی ہے یا نہیں ؟ رات بڑی بے چینی سے گذری، دعائیں ہوتی رہیں ، پھر رات سے بارش شروع ہوگئی ، طوفانی بارش، جل تھل کردینے والی بارش، صبح ہوئی تو بارش اور پانی میں محصور، اوپر سے آسمان کے دہانے کھلے ہوئے ، نیچے زمین پانی سے لبریز! دن بھر قیامگاہ میں مقید ہوکر رہ گئے ، اﷲ جانے درخواست کا کیا ہوا؟ صبح سے شام تک بارش تھمنے کاانتظار رہا، مگر وہ نہیں تھمی، دوسرے دن پھر وہی منظر ، ایک ایک گھڑی کرکے وقت کم ہوتا جارہاہے ، خدا خدا کرکے تیسرے دن بارش کا زور تھما ،مولانا عبد الرب صاحب حج کمیٹی کی آفس گئے ، بڑی تگ ودو کے بعد شام کو معلوم ہواکہ درخواست منظور ہوگئی ہے، اب مسئلہ فلائٹ کی ترتیب کا تھا ، میری فلائٹ کو دوروز باقی تھے ، آج کا وقت ختم ہوگیا۔ دوسرے دن پھر مولاناآفس میں تشریف لے گئے ، فلائٹ کی ترتیب دینے والے نے بتایا کہ آپ کی فلائٹ پرسوں کے بعد ہے، مولانا نے کہاکہ فلاں کی فلائٹ پرسوں ہے ، مجھے ان کے ساتھ جانا ہے! اس لئے اسی فلائٹ میں میری بھی گنجائش نکالئے ، اس نے تیز لہجے میں کہا ناممکن ؟ آخر یہ کیا رٹ ہے کہ میں فلاں مولانا کے ساتھ جاؤں گا، یہی کیا کم ہے کہ آپ کی منظوری ہوگئی ہے، مولانا نے بھی لہجے کی اسی تیزی میں جواب دیا ہے کہ مجھ پر حج فرض نہیں ہے، میں فلاں مولانا کی رفاقت میں ہی جاناچاہتا ہوں اور اگر وہ نہیں ہوتا ، تو میرے کاغذات واپس کیجئے ، میں بعد میں کبھی چلاجاؤں گا۔