مناسب ہے کہ تم بھی حج کرلو ، اس عزیز نے کہا کہ میں سب بھائیوں میں چھوٹا ہوں ، اور دکان کی کچھ ذمہ داریاں میرے سر پر بھی ہیں ، میں نے کہا کہ ادائیگی ٔ فرض میں چھوٹے بڑے کی کوئی ترتیب نہیں ہے، اور رہی دکان کی ذمہ داریاں ، تو اس سلسلے میں بھائیوں سے بات کرلو۔ بھائیوں سے بات ہوئی تو سب نے بخوشی اجازت دے دی، کہ تمہاری ذمہ داری ہم دیکھیں گے ، تم مطمئن ہوکر جاؤ، پھر ہم دونوں کے فارم بھر دیئے گئے، اس وقت فلائٹیں بیشتر بمبئی سے جاتی تھیں ، ذی قعدہ کے اخیر عشرہ میں بمبئی کے ٹکٹ بنوائے گئے ، میرے بہت عزیز اور محبوب دوست مولانا عبد الرب صاحب اعظمی نے آمادگی ظاہر کی کہ بمبئی تک میں بھی چلوں گا۔
تاریخ یاد نہیں ہے ، لیکن یہ یاد ہے کہ ذی قعدہ کا آخری عشرہ تھا جب بمبئی کے لئے ہم لوگ روانہ ہوئے ، اور جہاز وہ تھا جو آخری سے دونمبر پہلے تھا ۔ بمبئی میں برسات کا موسم شروع ہوچکا تھا، ہم لوگ بمبئی پہونچے تومولانا عبد الرب صاحب نے ارادہ ظاہر کیا کہ اگر کوئی صورت بن سکے تو میں بھی آپ کے ساتھ حج کرلوں ، مجھے بیحد خوشی ہوئی ، مگر وقت اتنا کم تھا کہ فارم بھرنا ، حج کمیٹی میں جمع کرنا، اس کی منظوری کا ہونا، پھر فلائٹ کا متعین ہونا ایک بڑا دردسر تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کیا تدبیر کرنی چاہئے ، تین چار روز کے بعد ہم لوگوں کے جہاز کی روانگی ہے، اس کے بعد صرف دوجہاز جائیں گے ، پھر کام تمام !
میں نے سوچا کم اور دعا زیادہ کی ، حق تعالیٰ نے جیسے لگے ہاتھوں دعا قبول فرمائی، ذہن میں بے ساختہ نام حضرت مولانا قاری ولی اﷲ صاحب کا آیا، پچھلے حج میں تجربہ ہوچکا تھا کہ قاری صاحب کو حاجیوں کی خدمت کرنے میں کبھی کوئی عذر نہیں ہوتا ، پھر ان کا نام سہولتوں کی ضمانت ہے ، مشورہ کرکے ہم لوگ علی الصباح بعد نماز فجر قاری صاحب مدظلہٗ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان سے مدعا بیان کیا ، پہلے تو انھوں نے اپنے مخصوص لہجۂ محبت میں ڈانٹنا شروع کیا کہ آپ لوگ دیوانے ہیں ، وقت اتنا کم ہے ، اب کیا ہوسکتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ ہیں تو کیا نہیں ہوسکتا ، پھر لہجہ بدلا، فرمانے لگے فوٹو ہے ، ہم نے کہا نہیں ،