اپنی سرگوشی میں مست اور محو رہتا، وہ قبول ورَد سے بے نیاز بارگاہِ الٰہی میں عرضِ مدعا کرتا رہتا۔ پھر مجھے یاد ہے کہ جب بقرعید کاچاند دکھائی دیتاتودل پر پُروائی ہوا چلنے لگتی ، درد کے ٹانکے ٹوٹنے لگتے ، ایک لذیذ قسم کی ٹیس ابھرنے لگتی ، اور زبانِ دل کی مناجات شروع ہوجاتی ، جو کچھ کتابوں میں پڑھا ہوتا ، سب مجسم ہوکر نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتا۔
اس طرح ایک عرصہ بیت گیا، میں حالات کے الٹ پھیر میں تہ وبالا ہوتا رہا، یہاں تک کہ زمانہ کی گردش ۱۹۸۹ء( ۱۴۰۹ھ) کو پہونچی، توبارگاہِ الٰہی سے قبولیت کا پروانہ آگیا، یعنی سولہ سال کے بعد! حاضری ہوئی ، کیسی ہوئی ؟ کس عالم میں ہوئی؟ اس کی کچھ داستان میں نے لکھ دی ہے۔
’’ایک بار دیکھا ہے ، دوبارہ دیکھنے کی حسرت ہے ‘‘ کسی عاشق کا قول ہے، دل نے دہرانا شروع کیا ۔ اب سولہ سال کی پرانی لے ، ایک نئے نغمے میں ڈھل گئی ، مجھے خیال نہ تھا کہ یہ نئی صدا اتنی جلد اس دربار میں بار پالے گی ، لیکن ہوا وہی ، جو میں نے سوچا بھی نہ تھا ۔۱۴۱۱ھ کاکوئی ابتدائی مہینہ تھا، میں کلکتہ کے لئے عازم سفر تھا ، راستے کاایک پڑاؤ میری قدیم جگہ مدرسہ دینیہ غازی پور تھا ، وہاں میرے ایک عزیز جنھوں نے چند کتابیں مجھ سے پڑھی بھی ہیں ، محلہ رجدے پور کے عزیزم عبد اﷲ سلّمہ ملنے آئے ، باتوں باتوں میں انھوں نے دریافت کیا کہ آپ حج کو جائیں گے؟ میں نے کہا یہ کس مسلمان کے دل کی تڑپ نہیں ہے ، لیکن اس کے اسباب ووسائل تو ہوں ، کہنے لگے والد صاحب نے اپنے حج نفل کے لئے رقم جمع کی تھی ، لیکن ابھی فارم بھرنے کا وقت نہیں آیا تھا کہ ان کا انتقال ہوگیا ، ہم سب بھائی بہنوں اور والدہ نے طے کیا ہے کہ اس رقم کو والد صاحب کی طرف سے حج میں ہی صرف کیاجائے ، سب اس پر متفق ہیں کہ آپ والدصاحب کے حج بدل میں جائیں ۔ میں نے کہا کہ اس سے زیادہ خوشی کی کیابات ہوگی ، میں کلکتہ سے واپس ہوتا ہوں ، تو فارم وغیرہ بھرنے کا انتظام کیا جائے۔
میں نے عبد اﷲ سے کہا کہ تقسیم ترکہ کے بعد تم پر حج فرض ہوچکا ہے، اس لئے