تھے ، ان کو فضیلت کا مستحق قرآن نے ٹھہرایا ہے ، اگر میں بھی کھڑا ہوں ، گوکہ ایک بے معنی اور مہمل وجود رکھتا ہوں ، لیکن گوشۂ چشمے کا امیدوار ہوں ، تو کیا خطا کررہا ہوں ؟ ہاں میرے امتی! تو کچھ نہیں ہے ، لیکن آس لگائے کھڑا ہے، یہ بارگاہ آس ہی کی ہے ، یاس کی نہیں ہے ، مجھے میرے رب نے خوشخبری سنانے کا حکم دیا ہے ، یہ خوشخبری تیرے لئے بھی ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ میرے دین پر قائم رہ ۔ میری یہ بشارت تیرے لئے ہے ، جا! تو نے اپنے عجز وقصور کا اعتراف کیا ہے ، تیرے دل سے محبت کی بو آرہی ہے، تو ضرور کمزور ہے ، تو اپنے نفس سے شکست کھاجاتا ہے، لیکن جان بوجھ کر قصداً نافرمانی مت کرنا، اور کبھی غلطی سے نافرمانی ہوجائے تو ، توبہ میں دیر نہ لگانا، اﷲ بہت کریم ورحیم ہے ، میں اس کے رحم وکرم کا ہی پیغام لے کر آیا ہوں ، لیکن ساتھ ہی اس کا عذاب بھی سخت ہے ، اس لئے ڈراتاہوں ،جا! دل کے ایک گوشے میں خوف کو جمالے ، جو گناہوں کے حق میں تیرے ہاتھ پاؤں کی زنجیر بن جائے ، اور باقی فضائے دل کو امید کرم سے معمور کرلے ، جو تجھے حسنات وخیرات میں تیزگام رکھے ، پھر تو چاہے یہاں رہ یا ہندوستان میں رہ ، میرے قریب ہے، میری توجہ اور میرے التفات کا مورد ہے، جا! یہاں سے یہی پیغام لیتا جا، اور لوگوں میں اسی کو عام کرتا رہ ، میرے ہر امتی کو جہاں تک تیری رسائی ہو، یہ پیغام سنادے ، تجھ کو میرے نام کی نسبت ہے ، تو میرے کام سے تیری شناخت ہونی چاہئے ، دائیں بائیں مت دیکھ، میرا نقش قدم صراطِ مستقیم ہے ، اور یہ نقش قدم آج بھی اسی طرح جگمگا رہا ہے ، جس طرح پہلے روشن تھا۔
میں انھیں تصورات میں گم کھڑا رہا ، ہوش آیا تو اَقدام عالیہ کی جانب چلا گیا اور بیٹھا درود شریف پڑھتا رہا، جب وقت تھوڑا رہ گیا تو بوجھل قدموں کے ساتھ بازدید کی تمنالئے ہوئے وہاں سے رخصت ہوا۔
پھر کیا ہوا، محفل اجڑ گئی ، چالیس دن کا پُرکیف سفر اب دل میں یاد بن کر باقی رہ گیا، اس کی حلاوت ولذت سے محظوظ ہوتاہوں ، اور اب اسے بھی کاغذ پر منتقل کردیا ہے ، کیونکہ دل کی یاد دھندلاجاتی ہے ، حافظہ اسے فراموش کردیتا ہے، دنیا کے مکروہات میں پڑکر ، روح