آج ارادہ ہے کہ روضۂ پاک کی آخری حاضری میں ، بہت کچھ عرض ومعروض کروں گا، گیا تو اسی ارادے سے ، مگر کیا کچھ کہہ سکا ، کھڑا صلوٰۃ وسلام پڑھتا رہا اورزبان سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی ، دل البتہ تمنائیں کرتا رہا۔ اس کی سرگوشی جاری رہی ، میں تصور ہی تصور میں جواب سوچتا رہا کہ اگر حضور ہمارے درمیان بالائے زمین تشریف فرماہوتے ، اور آپ کے جمالِ جہاں آراکا بجائے چشم تصور کے ان ظاہری آنکھوں سے دیدار کرتے ، اور آپ کی نگاہِ شفقت ومحبت کو دیکھتے ہوتے ، اور اس وقت ہم آپ سے طالب اجازت ہوتے ، یا آپ ہمیں اذنِ رخصت دیتے ، تو ہم کیا عرض کرتے ؟ اور آپ کیا فرماتے ؟ پھر دل میں ان وفود اور ان حضرات کا خیال آنے لگا، جو آپ کے دربار میں حاضر ہوتے اور کچھ دیر آپ کی خدمت میں رہ کر کبھی وہ خود رخصت کی اجازت چاہتے اور کبھی آپ انھیں رخصت کرتے ، ان سے آپ محبت کی باتیں کرتے ، ان کی آنکھوں میں آنسو جھلملاتے ، تو آپ تسلی دیتے انھیں نصیحت فرماتے ، نماز کی تاکیدفرماتے ، کچھ دور پہونچانے کے لئے جاتے ، ان کا ہاتھ پکڑے رہتے ، ایک صاحب سے کہہ رہے تھے کہ شاید اب اس کے بعد میری ملاقات نہ ہوتو ، وہ تڑپ گئے تھے ، اور تاثر کا گہرا نشان آپ کے چہرہ ٔ انور پر بھی دیکھا گیا تھا ، کس قدر شفقت تھی ، آپ کو اپنے اصحاب پر۔
میں غور کررہا تھا کہ آج آپ کا ایک گنہگار امتی ، آپ سے اذنِ رخصت لے رہا ہے ، جانے کا یارا اسے نہیں ہے ، لیکن مجبور ہے؟ اس سے آپ کیا فرمارہے ہیں ؟ ارے تو کہاں لائق خطاب ہے؟ کہ امید جواب دل میں لئے کھڑا ہے ، تو چل ہٹ! اپنے کو اس قابل کیوں سمجھ لیا ہے کہ تیرے طلب اذن پر ادھر سے توجہ والتفات سے نوازا جائے گا؟ ہاں بے شک میں اس لائق نہیں ، لاریب کہ میں ناقابل التفات ہوں ، لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ جس بارگاہ میں ، میں کھڑاہوں ، وہاں دنیا کے گرے پڑے لوگ بھی نگاہِ کرم کے مستحق ٹھہرے ہیں ، جنھیں کوئی پوچھتا نہ تھا ، وہ یہاں دل سے چاہے گئے ہیں ، جو ہر جگہ کے ٹھکرائے ہوئے تھے ،ا نھیں یہاں سینے سے لگایا گیا ہے ، وہ لوگ جن کے بیٹھنے سے سردارانِ مکہ چیں بجبیں ہوتے