کی حلاوت کھوجاتی ہے ، کاغذ پر الفاظ محفوظ ہوں گے ، تو جب کبھی دیکھنے کی نوبت آئے گی پرانے تاثرات ابھر آئیں گے ، ایمان ویقین کی تجدید ہوگی ، لطف ولذت میں تازگی آجائے گی، ممکن ہے کہ کسی جگہ دل کی دھڑکن بڑھ جائے ، کہیں آنکھیں آنسوؤں کی سوغات پیش کردیں ، کہیں زبان مصروفِ دعا ہوجائے ، کہیں روح کی خوابیدہ تمنا بیدار ہوجائے ، شوقِ زیارت پھر زور کرے ، قلب میں خنکی اور جگر میں حرارت پیدا ہو ، گویا جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ دوسروں کے لئے نہیں ، اپنے لئے لکھا ہے، لیکن اسے چھاپ رہا ہوں ، تاکہ دوسرے لوگ بھی پڑھیں ، اور لکھنے والے کے حق میں دعا کریں ۔ غائبانہ دعاء پہلے ان کے حق میں قبول ہوگی، اس کے بعد میرے حق میں !
مدینہ شریف سے جدہ آئے ، جدہ سے اڑے تو بمبئی ، اور بمبئی سے ریل پر بیٹھے تو منزل بمنزل گھر آکر مدرسہ پہونچ گئے ،اور پھر وہی ؎
مشق سخن اور چکی کی مشقت!
اﷲ تعالیٰ قبول فرمائیں ۔
٭٭٭٭٭