کی کیفیت بدلی ہوئی ہے، حزن وملال کی بدلیاں آہستہ آہستہ چھاتی چلی جارہی ہیں ، آج اس پاک جگہ سے ہمارے جسموں کو رخصت ہونے کا حکم ہے ، جہاں کا ہرہر ذرہ انس ومحبت ہے ، سراپا انس ومحبت ! جہاں ایک لمحہ کے لئے بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ مجھے اس وقت بار بار ایک قصہ یاد آیا ، جو میرے گاؤں کے ایک بڑے میاں سنایا کرتے تھے ۔ وہ گاؤں ہی کے ایک دوسرے شخص کے بارے میں بتاتے تھے کہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ لہوولعب اور فسق وفجور میں گذرا، دین اور دینداری سے دور رہے ، مگر آخر عمر میں جاذبۂ توفیق الٰہی نے ان کا دامن کھینچا اور فسق وفجور کی خارزار اور گرم وادی سے نکال کر ایمان وعمل کے شاداب اور خنک گلستاں میں پہونچادیا، پھر اﷲ تعالیٰ نے انھیں حج کی توفیق بخشی ، حج کرلیا ،پھر مدینہ منورہ آگئے اور یہیں پڑرہے ، عرصہ کے بعد نہ جانے کیا حالات ہوئے کہ انھیں حکومت کی جانب سے حکم ملا کہ مدینہ سے رخصت ہوجاؤ۔ وہ چھپتے پھرتے تھے، لیکن بالآخر پکڑے گئے اور پولیس کی حراست میں ، اونٹ پر بیٹھا کر مدینہ سے باہر نکال دئے گئے ۔ اونٹ آگے بڑھتا رہا اور اس کی پشت پر پیچھے کی طرف رُخ کئے ہوئے محو جمالِ روضۂ مطہرہ رہے ، شاید اس میں اتنا جذب ہوگئے تھے کہ بس ان کی روح تھی اور سبز گنبد کا حسین پیکر! اونٹ جوں جوں آگے بڑھتا رہا روضۂ اقدس نگاہوں سے اوجھل ہوتا رہا ، جب بالکل ہی محرومی ہوگئی ، تو اچانک انھوں نے ایک دلدوزچیخ ماری ، پھر اونٹ سے گرے ، اور ان کی روح اس عالم میں پرواز کرگئی ، جہاں کوئی حجاب نہیں ۔ جہاں اہل دنیا کی حکومت کا زور نہیں ، جہاں رنج وفراق نہیں ، میں سوچتا تھا کہ ایک وہ لوگ بھی تھے ، جو اپنی بات نباہ گئے ، اپنا عہد محبت پورا کرگئے۔ ؎
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو ہم وفا کرچلے
انھوں نے تو اپنا عہد وفا کردیا ۔ ایک ہم ہیں کہ کلیجہ پر ہاتھ رکھ رہے ہیں ، دل خون ہواجارہا ہے، طبیعت بیٹھی جارہی ہے ، لیکن روح ہے کہ قفس عنصری میں پھڑپھڑا کر بھی باہر نہیں نکل پارہی ہے ، یہ قفس یونہی بند رہے گا ، طائر روح یونہی مقید رہے گا، اور شام ہوتے ہوتے مدینے کے روح پرور نظارے اوجھل ہونے لگیں گے۔