اندر پچاس ہزار نسخے قرآن کریم کے چھپتے ہیں ۔
شاہ فہد کو اﷲ تعالیٰ نے دولت سے نوازاہے ، تو خرچ کرنابھی جانتے ہیں ، خالد میاں بتارہے تھے کہ ابھی شاہ فہد کی طرف سے قرآن کریم کی طباعت کا جو آرڈر آیا ہے اس کی تکمیل کے لئے کم ازکم تین ماہ درکار ہیں ۔ لطف یہ ہے کہ اس مطبع کے قرآن کی فروختگی ممنوع ہے، سب وقف ﷲ ہوتے ہیں ۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمے کی بھی اشاعت ہوتی ہے ۔ خالد سے معلوم ہواکہ فی الحال ترجمہ شیخ الہند مع فوائد عثمانی کی طباعت ہوئی ہے ، ابھی اس کا اجراء نہیں ہواتھا ۔ خالد میاں نے مطبع دیکھنے کی پیشکش کی ، لیکن معلوم ہواکہ وہ مدینہ طیبہ سے ۱۵؍ کلومیٹر دور ہے ، آنے جانے میں خاصا وقت لگے گا ۔ اس بناپر معذرت کردی کہ مدینہ طیبہ کے تھوڑے سے قیام کو ان غیر ضروری امور میں گنوانا مناسب نہیں ہے۔
٭٭٭٭٭
مدینہ میں قیام کی کل مدت تھی ہی کتنی؟ کل آٹھ دن ! دیکھتے ہی دیکھتے یہ آٹھ دن گذر گئے ۔ جی چاہتاتھا کہ ہر دن ایک سال کا ہوجائے ، تاکہ طبیعت کو، روح وقلب کو، ایمان ویقین کو تازگی اور شادابی حاصل ہوتی رہے۔ نبی کریم ا سے قربِ جسمانی کی برکت سے ایمان وعمل کی حلاوت ولذت میں رسوخ حاصل ہوتا رہے ، ہرروزروضۂ اقدس پر حاضری کی سعادت ، مدینہ طیبہ کے علاوہ اور کہاں نصیب! اور پھرکیسے کیسے لوگ خاشع وخاضع ، دیندارو متواضع، اﷲ کے نام کے لذت آشنا ، نبی کے والہ وشیدا ، عقیدت ومحبت سے معمور ، ذکر وتلاوت میں سرشار ، درود خوانی میں مصروف ومنہمک اور نماز وعبادات میں کوشاں ملتے تھے ۔ یہ دولت اور کہاں حاصل ہوگی ؟ جی نہیں چاہتا تھا کہ قیام کی مدت ختم ہو ، یہ نہ ختم ہوتی ، حیات مستعار ہی ختم ہوجاتی ، جسم یہیں پیوند زمین ہوجاتا ، تو سعادت کا عروج حاصل ہوجاتا ، مگر یہ بخت بیدار ہر کسی کو کہاں حاصل ؟ وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جنھیں مدینہ کی مٹی قبول کرتی ہے، ان کا خمیر یہیں کا ہوتا ہے۔
غالباً ۱۲؍ اگست کی تاریخ تھی ، آج ہی اذنِ رحیل ہے ، قدم بوجھل ہورہا ہے، دل