بلندشہری ہیں ۔ میں محبت اور شوق میں مصافحہ کے لئے بڑھا ، مولانا میرے بڑے محسن ہیں ، بچپن میں ان کا ایک رسالہ ’’حالاتِ جہنم ‘‘ پڑھا تھا ، جس کا نقش دل پر بہت گہرا جما۔ اس کے بعد مولانا کی متعدد اصلاحی تصانیف پڑھیں ، دینی ذہن بنانے میں مولانا کے رسالوں کا بہت دخل ہے ۔ مولانا نہایت بے تکلفی سے اس طرح ملے جیسے پرانی شناسائی ہو، مولانا عبدالعظیم صاحب نے میرا تعارف کراتے ہوئے انھیں بتایا کہ یہ ’’حیات مصلح الامت‘‘ کے مرتب ہیں ، تو نہایت سادگی اور بے تکلفی سے فرمایا کہ مجھے کہاں انھوں نے دکھایا ۔ میں نے عرض کیا کہ واپسی کے بعد انشاء اﷲ بھیجوں گا، میں نے کہا حضرت میں آپ کا بچپن سے شاگرد ہوں ، فرمایا وہ کیسے؟ میں نے ان کی کتابوں سے اپنے استفادہ کا ذکر کیا تو بہت ہنسے ۔ بہت بے نفس، پاکباز اور صاف باطن بزرگ ہیں ، اﷲ تعالیٰ ان کی حیات میں برکت دیں ۔
ہمارے دوستوں میں ایک صاحب جو نہایت پختہ دیندار ہیں ، گورنمنٹ کے ملازم ہیں ، آب پاشی کے محکمہ میں انجینیر ہیں ۔ جناب مہناج الحق صاحب صدیقی، حج میں روانگی کے وقت گورینی آئے تھے ۔رخصت ہونے کے وقت انھوں نے بتایا تھا کہ ان کے ایک بھانجے محمد خالد خادم الحرمین شاہ فہد کے مطبع میں کام کرتے ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں ان سے ملاقات ہوگی، ان کا پتہ بھی دے دیاتھا ، میں نے مکہ مکرمہ سے ایک خط ان کے نام لکھ کر سپرد ڈاک کردیاتھا ۔ ایک دفعہ میری ان سے ملاقات ہوچکی ہے ، میں مختلف چہروں کو دیکھتا رہتا کہ شاید وہ نظر آجائیں ۔ ایک دن مسجد نبوی سے باہر آرہا تھا کہ ایک عالم دین جو میرے کرم فرماؤں میں سے ہیں ، ایک صاحب سے کہہ رہے تھے کہ دیکھئے وہ آرہے ہیں ؟ پھر ایک نوجوان آدمی میری طرف بڑھا ، میں پہچان گیا یہی خالد تھے ۔ پھر تو انھوں نے وہ خدمت کی اور سعادت مندی دکھلائی کہ جی خوش ہوگیا ۔ اﷲ تعالیٰ انھیں خوش رکھے۔
سعودی عرب کے بادشاہ فہد بن عبد العزیز نے قرآن کریم کی عمدہ طباعت کے لئے دنیا کا عظیم ترین مطبع قائم کیا ہے ، یہ مطبع غالباً دنیا کے دو بڑے مطابع میں سے ایک ہے۔ میاں خالد سلّمہ اسی میں کام کرتے ہیں ، انھوں نے بتایا کہ اس مطبع میں چوبیس گھنٹے کے