بعض صحابہ کرام بیمار ہوئے تھے تو رسول اﷲ انے یہاں کی مٹی بدن کے اوپر استعمال کرائی تھی ، اور اس سے ان حضرات کو شفاء حاصل ہوئی تھی ۔ خدا بہترجانتا ہے کہ اس روایت کی حقیقت کیا ہے ؟ کسی کتاب میں دیکھنا یاد نہیں ہے ، پہلے یہاں کی مٹی ٹکیوں کی شکل میں لوگ بناکر ہدیہ کیا کرتے تھے ۔ سعودی علماء کے نزدیک اس مٹی کے بارے میں شفاء کا گمان رکھنا شرک ہے ، اس لئے اب کہیں نظر نہیں آتی ، ہماری بس کا ڈرائیور دیندار تھا ، وہ بھی ہم لوگوں سے الجھ رہا تھا اور شرک وحرام کا وظیفہ پڑھے جارہا تھا ، ہم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی دوا یا کسی مٹی میں شفاء کا گمان رکھنا شرک کیونکر ہوسکتا ہے ، جبکہ اعتقادیہ ہوکہ اس میں یہ خاصیت حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کرتے ہیں ، لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔ ہم لوگوں نے اس کی نکیر شدید کے باوجود تھوڑی تھوڑی مٹی حاصل کرلی۔
چنداور مقامات پر گئے ، مسجد قبلتین اور بنی سالم جہاں پہلا جمعہ رسول اﷲ ا نے ادا کیا تھا ، وہاں بھی حاضر ہوئے ، بارہ بجے کے قریب اپنے مستقر پرواپس ہوئے، پھر رسول مقبول فداہ روحی وقلبی کے حضور میں حاضری ہوئی ، مدینہ میں قیام کی گھڑیاں اڑتی چلی جارہی تھیں ، ہرروزقیام کا ایک روز گھٹ جاتا تھا ، اس لئے کوشش یہ رہتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ وقت مسجدنبوی میں بسر ہوجائے ۔ ایک روز بعد نماز عصر صف اول کے قریب تلاوت کررہا تھا، اچانک موسم ٹھندا ہوتا ہوا محسوس ہوا، پیچھے کی جانب کچھ چہل پہل سی لگ رہی تھی ، میں نے ادھر ادھر التفات کو بے ادبی سمجھا ، تلاوت میں غرق رہا۔ مغرب کی نماز سے کچھ پہلے تلاوت سے فارغ ہوکر باہر آیا تو دیکھا کہ صحن میں پانی بہہ رہا ہے، اور موسم جو انتہائی گرم تھا ، بڑا خوشگوار اور معتدل ہوگیا ہے ۔ معلوم ہواکہ موسلادھار بارش ہوئی ہے ، میں جب نکلاہوں تو بارش ختم ہوچکی تھی ۔ ہمارے دوست مولوی محمد عمر صاحب نے کرتا پاجامہ سمیت بارش میں نہانے کی سعادت حاصل کی۔
ایک روز بعد نمازِ عشاء مسجد سے باہر نکلا تو ایک بزرگ آدمی کو لوگ گھیرے کھڑے تھے ، میں بھی بڑھا تو مولانا عبدالعظیم صاحب ندوی نے بتایا کہ یہ مولانا عاشق الٰہی صاحب