قیمت نہیں ہے، بلکہ اپنی شان بنانے سے ان کی ناراضگی آتی ہے، آپ نے اتنا لمبا سفر کیا، مشقتیں جھیلیں ، مال کا ایک بڑا حصہ خرچ کیا، اور خود کو ایسی جگہ پیش کیا کہ گناہ کا ہر ذرہ بدن سے، قلب سے، روح سے جھڑ جائے، اس کے بعد صرف تھوڑی سی اور ظاہری شان وشوکت کے لئے پھر معصیت کی آلودگی میں لت پت ہو جانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ آپ بغیر کسی نام نمود کے اپنے وطن پہونچئے، اور سیدھے مسجد پہونچ کر دو رکعت نفل پڑھئے، اﷲ کا شکر ادا کیجئے، اس کا احسان مانئے، اور جی لگا کر دعا کیجئے، اپنے لئے، اپنے اعزہ واقرباء کے لئے، ان لوگوں کے لئے جو آپ سے ملنے آ چکے ہیں ، یا آئیں گے، اور ساری امت مسلمہ کے لئے، پھر تواضع ومسکنت سے اپنے گھر میں داخل ہوئیے۔ وہاں بھی دو رکعت نفل پڑھ لیجئے۔ آپ سے ملنے لوگ آئے ہیں اور آتے رہیں گے ان سے ملئے، وہ احوال پہونچیں گے، انھیں سفر کی تفصیلات بتائیے، اس میں مضائقہ نہیں ، لیکن اپنی کسی عبادت کی نمائش مت کیجئے۔ آپ کو جو تکلیفیں اس سفر میں پہونچی ہیں ، ان کا تذکرہ مت کیجئے۔ کسی ساتھی پر کوئی تنقیدی لفظ مت بولئے، وہاں بازاروں میں دنیا بھر کے ایک سے بڑھ کر ایک سامان جو دیکھ کر آپ آئے ہیں ، ان کا بھی ذکر مت کیجئے، ایسی باتیں کیجئے، جن سے آپ کے قلب میں بھی اور سننے والوں کے قلب میں بھی اﷲ تعالیٰ کی محبت وعظمت پیدا ہو، حرم کا تقدس نمایاں ہو، رسول اکرم ﷺ اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کا اہتمام ہو، نہ حکومت پر تنقید کیجئے، نہ اہل مکہ اور اہل مدینہ کی کوئی شکایت کیجئے، اور نہ دور دراز سے آنے والوں کی کسی بے عنوانی اور جہل وناواقفی کا تذکرہ کیجئے، ان تذکروں سے کوئی فائدہ نہیں نقصان البتہ ہوتا ہے۔
اﷲ تعالیٰ آپ کے حج کو قبول فرمائیں ، اور مزید حج وزیارت کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین یا رب العالمین۔
٭٭٭٭٭