کا دعویٰ کیا جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں…میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیںکیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگائے وہ سراسر مفتری اورکذاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہوتارہاہے کہ مثیل المسیح ہوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اورعادات اور اخلاق وغیرہ خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔‘‘ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اورعادات اور اخلاق وغیرہ خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔‘‘ (ازالہ ص۱۹۰، خزائن ج۳ص۱۹۲)
مرزا قادیانی نے ایک اشتہار ۱۱؍فروری ۱۸۹۱ء کو شائع کروایا جس میں لکھا: ’’یہ بات سچ ہے کہ اﷲ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا…میں اسی الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتاہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ میرے سوا کوئی اورمثیل مسیح آنے والا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۰۷)
اس اشتہار میں مسیح موعود ہونے سے انکار تو کیا لیکن ساتھ ایک نیا فتنہ پیدا کردیا کہ اور بھی مثیل مسیح ہوسکتے ہیں۔ اسلام میں مثیل مسیح کا کوئی عقیدہ سرے سے ہے ہی نہیںاورنہ کسی اور نبی یا رسول کے مثیل کاعقیدہ۔ یہ باتیں سب بے اصل ہیں۔ قرآن اورحدیث کے خلاف ہیں۔ غلام احمد قادیانی کے اس نئے فتنے کااثر یہ ہوا کہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں شہ پاکر چند بے بصیرت لوگوں نے کسی نبی اورکسی رسول کے مشابہ اوران کے مثیل ہونے کا دعویٰ کردیا۔ جب کہ اسلام میں ایسے کسی دعویٰ کی گنجائش نہیں ہے اور اسلام کے خلاف سازش ہے۔
مولوی عبدالجبار نامی ایک صاحب کے خط کے جواب میں مرزا قادیانی نے اس حدیث کی صداقت کا انکار نہیں کیا جس کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام دمشق میں نازل ہوں گے۔ البتہ چالاکی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکرکرنے کی بجائے وہاں بھی مثیل مسیح کی اپنی گھڑی ہوئی اصطلاح استعمال کی۔
’’میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ پیش گوئیوں جو میرے حق میں روحانی طورپرظاہری طور پر اس پر جمتی ہیں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیل مسیح نازل ہو۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۰۸)
دوسرے مقام پر اوربھی مثیل مسیح اور دیگر انبیاء کے مثیل ہونے کی بے اصل اور گھڑی ہوئی بات کے ساتھ یہ دعویٰ کر دیا کہ:’’آسمان سے اترنے والے اس کی نسل میں پیدا ہوںگے۔‘‘
’’بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور