ہی چالیس کروڑ مسلمانوں کو مرتد اورکافر بنادیا۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز اورحرام قرار دیا۔ ان کے ساتھ رشتہ ناتہ کرنا قطعی طورپرممنوع ٹھہرادیا اور ان کے لئے دوزخ کا دروازہ کھول دیا۔ برخلاف اس کے اپنی قلیل جماعت کو فرقہ ناجی اورمستحق جنت ٹھہرایا۔
آنحضرت ﷺ کی جلالت، افضلیت اورشان یہ ظاہر کی کہ آتے ہی زور سے دعویٰ کر دیا کہ ’’ان قدمی ہذہ علی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ‘‘(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۷۰) یعنی میرا پاؤں اس بلندی پر ہے جس پر تمام بلندیاں ختم ہیں۔یعنی مجھے وہ رتبہ ملاہے کہ کسی نبی کو آج تک نہیں ملا۔ یہاں پر صریح لفظوں میں آنحضرتﷺ پر افضلیت کا دعویٰ کیاگیا۔
ایک جگہ پر توصاف طورپر کھلے کھلے الفاظ میں لکھتے ہیں کہ: ’’میرے بڑے بڑے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸،خزائن ج۲۲ص۵۰۳)
اور جناب رسول ﷺ کی نسبت (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ص۱۵۳)میں لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے نبی ﷺ سے تین ہزارمعجزے ظہور میں آئے۔‘‘
ان دونوں قولوں کو ملانے سے ظاہر ہوا کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میرے معجزات رسول اﷲ ﷺ کے معجزات سے بھی زیادہ ہیں۔ یعنی مجھے آنحضرت ﷺ پر سو حصہ زیادہ فضیلت ہے۔(نعوذ باﷲ) اب ناظرین خود انصاف کر لیں کہ اس معیار کی رو سے صادق ٹھہرے یا کاذب؟
باب سوئم
مرزا قادیانی کے کذب میں قرآن کریم اوراحادیث شریفہ سے معیار
ناظرین!مرزاقادیانی اپنے پیش کردہ معاییر کی رو سے کاذب، مفتری ، جھوٹے اور بے دین ثابت ہوگئے۔ ہم ان کے پیش کردہ اتنے ہی معیاروں پر اکتفا کرتے ہیں اور قرآن شریف اورحدیث نبی ﷺ سے معیار پیش کرکے ان کے کذب کی اوربھی تصدیق کرا دیتے ہیں۔
پہلا معیار
حدیث شریف میں آیا ہے:’’ماتوفی اﷲ نبیاقط الادفن حیث قبض (کنز العمال ج۲ص۱۱۹)‘‘اس کاترجمہ میں اپنی طرف سے نہیں کرتا۔ بلکہ مرزا محمود قادیانی کا ترجمہ پیش کرتاہوں۔ وہ اس معیار کو مانتے ہیں، لکھتے ہیں۔ ’’نہیں فوت کیا ،کسی نبی کو بھی اﷲ نے ہرگز کہ وہ دفن کیا گیا ،جس جگہ فوت کیاگیا۔‘‘(دیکھئے تشحیذ الاذہان ج۱۱نمبر۴ماہ اپریل ۱۹۱۶ء ص۷)