آپﷺ سے کم درجہ کے تھے۔
یہ ہیں معنی حضورﷺ کے افضل الانبیاء ہونے کے اہل اسلام کے نزدیک۔ اس کے بعد چند باتیں قابل غور ہیں:
الف… منصب نبوت کے ملنے کا دارومدار چونکہ قرب خداوندی پر ہے۔سوا مقربین کے یہ منصب دوسرے کو مل ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ ابتداء ہی میں اس کی تشریح کر دی گئی ہے تو جس درجہ کا قرب ہوگا۔ اسی درجہ کامنصب ملے گا۔ تو اب کسی نبی کو منصب نبوت سب سے بڑا ملنا اس بات کی صریح دلیل ہوگی کہ یہ نبی سب سے زیادہ مقرب تھالہٰذا اگر ہم حضورﷺ کا منصب نبوت میں سب سے بڑا ہوناثابت کردیںگے تو آپﷺ کا دربار خداوندی میں سب سے مقرب ہونا ثابت ہو جائے گا۔ کسی دوسری دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ب… حضورﷺ کا منصب نبوت میں اعلیٰ و افضل ہونا دو وجہ سے ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ آپؐ کی شریعت خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔بلکہ قیامت تک بدستور باقی رہے گی اور باقی انبیاء علیہم ا لسلام کی شریعتیں خاص خاص وقتوں کے ساتھ مخصوص تھیں حتیٰ کہ حضورﷺ کے آنے پر سب منسوخ کر دی گئیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آپؐ کی شریعت و دعوت کسی خاص قوم یا ملک کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ تمام دنیا کے جن و انسان کے لئے ہے اور باقی حضرات کی دعوت و شریعت خاص خاص قوموں کے لئے تھی۔
ج… مذکورہ بالا دونوں وجوہات کو دو فصلوں میں بیان کیا جائے گا۔ پہلے آپؐ کی دعوت و شریعت کا تمام دنیا کے لئے عام ہوناثابت کیا جائے گا۔بعد میں آپؐ کی شریعت کا قیامت تک باقی رہنا ثابت کیا جائے گا۔
حضرت رسولﷺ کی دعوت کا عام ہونا
حضورﷺکی شریعت و دعوت عام ہونے کے دلائل دو طرح کے ہیں۔ عقلیہ و نقلیہ۔ پہلے دلائل نقلیہ کا ذکر کرتاہوں۔ اس کے بعد دلائل عقلیہ پیش کروں گا۔
دلائل نقلیہ
۱… ’’وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیراونذیرا ولکن اکثر الناس لایعلمون(سورہ سبا)‘‘{ہم نے توآپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے خوشخبری سنانے والا اورڈرانے والا لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔}لفظ ناس اطلاق عرفی میں جن کو بھی شامل ہے۔