ہوتے ہی اگر چاہے تو نکاح فسخ کرالے۔ البتہ باپ دادا کا کیانکاح مذہب احناف میں فسخ نہیں کرا سکتی اورعلاوہ احناف کے بعض حضرات کے نزدیک باپ داداکا کیاہوانکاح بھی فسخ کرا سکتی ہے۔
غرض نااتفاقی کی صورت میں مرد وعورت دونوں کے لئے موقعہ تجویز کیاگیاہے۔ الحاصل قانون نکاح کے متعلق اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔ لیکن یہ مختصر رسالہ ان کے ذکر کی گنجائش نہیں رکھتا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذہب اسلام کے قوانین کے وضع میں غور کرنے کے بعد آفتاب کی طرح روشن ہو جاتاہے کہ یہ مذہب واقعی عالمگیر مذہب ہے۔مذہب اسلام کے سارے ہی قوانین ایسے ہیں کہ ان میں مصلحت عامہ کو ملحوظ رکھاگیا ہے۔ لیکن نمونہ کے طورپر چند مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ہے اوراسی طریقہ پر قوانین کی وضع قطعی دلیل ہے حضورﷺ کی شریعت ودعوت عام ہونے کی۔
پس آپﷺ کی شریعت کا عام ہونا دلائل عقلیہ اورنقلیہ دونوں سے ثابت ہوا۔ باقی رہا افضلیت کی دوسری وجہ کا ثبوت یعنی حضورﷺ کی شریعت کا قیامت تک باقی رہنا تو یہ موقوف ہے ختم نبوت کے مسئلہ پر۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ توثابت ہو جائے گا کہ آپﷺ کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی۔ کیونکہ کوئی شریعت منسوخ نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے بجائے دوسری شریعت نہ بھیجی جائے اورشریعت نبی ہی کے ذریعہ بھیجی جاتی ہے۔تو جب آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا توکوئی شریعت بھی نہیں آسکتی۔ پس آپ ﷺ کی شریعت باقی رہے گی۔ غرض چونکہ یہ وجہ افضلیت کی ختم نبوت کے مسئلہ پرموقوف ہے لہٰذا پہلے اس مسئلہ کوصاف کرنا ضروری ہے۔
رسول اﷲﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا
اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپﷺ کے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا اوراس دعویٰ پر ان کے پاس دلائل عقلیہ اور نقلیہ دونوں طرح کے موجود ہیں۔ اول دلائل نقلیہ کو ذکرکرتاہوں۔ اس کے بعد دلائل عقلیہ کو پیش کروںگا۔
دلائل نقلیہ
۱… ’’ماکان محمد ابااحدمن رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین