سامنے پیش کردیتاہے۔ جس سے ان کی ناکامی کاثبوت اچھی طرح ہو جائے۔ والعیاذ باﷲ!
اورپھر کبھی ایک قانون داں بغاوت پھیلانے والے کی طرف قانونی بچاؤ بھی کر جاتا ہے اور سب کچھ کہہ بھی جاتاہے۔ مگر کبھی زور میں آکر اپنے دل کی بات بھی کہہ دیتاہے اورزہر اگل دیتاہے۔ اب ہم دونوں اشعار کے تحت میں جوبالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہیں، مرزا کی وہ عبارتیں لکھتے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی خصوصیت سے ناکامی و ناقابلیت بیان کی گئی ہے۔
عبارات مرزا
۱… ’’اورحضرت مسیح کی پیش گوئیوں کا سب سے بدترحال ہے بارہا انہوں نے کسی پیش گوئی کے معنے کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہورمیں آیا۔‘‘ (ازالہ ص۶۹۰، خزائن ج۳ص۴۷۲)
اس عبارت میں لفظ ’’سب سے بدترحال ہے‘‘قابل غور ہے۔
۲… (اعجاز احمدی ص۱۳،خزائن ج۱۹ص۱۲۰) ’’اوریہود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کو جواب دینے میں حیران ہیں۔ بغیر اس کے یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اس کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلیل قائم ہیں۔‘‘ اور نیز اسی صفحہ پر لکھتے ہیں۔
۳… ’’لیکن افسوس سے کہناپڑتاہے کہ ان کی (عیسیٰ علیہ السلام کی) پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کرسکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اورسچے دل سے قبول کیاہے اوربجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔ عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے ہیں۔ مگریہاں ان کی نبوت بھی ثابت نہیں ہوسکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طو ر پر جھوٹی نکلیں اورآج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرسکے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۱۳،۱۴،خزائن ج۱۹ص۱۲۱)
ان عبارتوں میں تو مرزا نے پیش گوئیوں ہی کی تکذیب کی ہے۔آئندہ معجزات کا بھی انکار ہے۔
۴… ’’کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اورظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایساکام ہے جس