شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۴۲۲،خزائن ج۳ص۳۲۰)
مسلمانوںکے مخالفانہ ردعمل کے خوف سے مرزا قادیانی نے یہ احتیاط برتی کہ محدثیت کو نبوت سے کم تر بتایا تاکہ نبوت کے دعویٰ کا الزام نہ لگ سکے۔چنانچہ وضاحت کی: ’’ہمارے سید رسول اﷲ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔ ‘‘ (شہادت القرآن ص۲۸، خزائن ج۶ ص۲۲۳،۲۲۴)
مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ
محدثیت کے بعد مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ سامنے آتاہے۔ اس نئے دعویٰ کو پیش کرنے میں اس شخص نے تین احتیاطیں کیں۔ ایک وضاحت بار بار کی کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ دوسری احتیاط یہ برتی کہ یہ اعلان کیا کہ دعویٰ حضرت عیسیٰ مسیح کے مشابہ یعنی ان کی طرح کے ہونے کا ہے اورمسیح موعود(قیامت کے قریب تشریف لانے والے عیسیٰ مسیح) ہونے کا نہیں۔ تیسری احتیاط یہ وضاحت کہ یہ دعویٰ نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ بار بار نبوت کے دعویٰ سے انکار کیا۔
۱… حضرت عیسیٰ مسیح کے نزول کا عقیدہ کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے لکھا:
’’اول تو جاننا چاہئے کہ مسیح موعود کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کا جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے ہے۔بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے۔جس کو حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جس زمانے تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانے تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا او جب بیان کی گئی تو اس سے کچھ کامل نہیں ہوگیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۴۰،خزائن ج۳ص۱۷۱)
ب… تکرار کے ساتھ کہاکہ دعویٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت کا ہے۔ اس لئے مثیل مسیح اورتکرار کے ساتھ اس سے انکار کیا کہ وہ خود کو مسیح موعود (یعنی وہ حضرت عیسیٰ مسیح جو دوبارہ تشریف لانے والے ہیں)قراردیتے ہیں۔ایک جگہ مرزا غلام احمدقادیانی نے لکھا: ’’اورمصنف کو(یعنی مرزا قادیانی) اس بات کا بھی علم دیاگیاہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات کے مشابہ ہیں اور ایک دوسرے سے بشدت مناسبت اورمشابہت ہے…‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۴)
دوسری جگہ وضاحت کے ساتھ لکھا:’’اس عاجز (یعنی مرزا غلام احمد) نے جو مسیح ہونے