حمایت کا جذبہ پیدا کرنا بڑاکٹھن کام تھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے غلام احمدقادیانی نے ضروری سمجھا کہ ایک خاص فضیلت و کمال کا دعویٰ کیا جائے۔ پھر اس حیثیت کو قبول کرنے کے بعد مسلمان بلا پس وپیش باتوں کومانیں گے اور بلااعتراض انگریزوں کی حمایت کرنے لگیںگے۔
(۱)ولایت اورمجددیت کا دعویٰ
چنانچہ اس شخص نے پہلے ولی، مجدد اورمحدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک اشتہار میں جو اس شخص نے ۳؍اکتوبر ۱۸۹۱ء کو چھاپ کر تقسیم کروایاتھا: ’’میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے،ان سب باتوں کو مانتاہوں جوقرآن شریف اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اورسیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب وکافر جانتاہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی،رسالت حضرت آدم صفی اﷲ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اﷲ ﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۳۰،۲۳۱)
۲۳؍اکتوبر ۱۸۹۱ء کو جامع مسجد دہلی میں تقریر کی اورمسلمانوں کے اعتراضات کو ٹالنے کے لئے کہا: ’’مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا میں کرتاہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو،اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتاہوں۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۵۵)
غلام احمد قادیانی نے ایک اشتہار شعبان ۱۳۱۴ھ میں چھپوا کر تقسیم کروایا۔جس میں یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں،اپنے ولی اورمجدد ہونے کادعویٰ کیا۔لکھا: ’’ہم بھی مدعی نبوت پرلعنت بھیجتے ہیں۔ ’’لاالہ الااﷲ محمدرسول اﷲ‘‘ کے قائل ہیں اورآنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں…نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اورمجددیت کادعویٰ ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۲ص۲۹۷)
(۲)محدثیت کا دعویٰ
اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ محدث ہیں اور یہ کہ محدث کا مرتبہ نبوت سے قریب ترین ہے۔ نبی کے بعد محدث، یہ ایک عجیب وغریب دعویٰ تھا۔ اس کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ سند۔ اس نئے اور عجیب دعویٰ کی مرزا قادیانی نے یوں وضاحت کی: ’’نبوت کا دعویٰ نہیںبلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا