Deobandi Books

احتساب قادیانیت جلد نمبر 51

451 - 568
حمایت کا جذبہ پیدا کرنا بڑاکٹھن کام تھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے غلام احمدقادیانی نے ضروری سمجھا کہ ایک خاص فضیلت و کمال کا دعویٰ کیا جائے۔ پھر اس حیثیت کو قبول کرنے کے بعد مسلمان بلا پس وپیش باتوں کومانیں گے اور بلااعتراض انگریزوں کی حمایت کرنے لگیںگے۔
(۱)ولایت اورمجددیت کا دعویٰ	
	چنانچہ اس شخص نے پہلے ولی، مجدد اورمحدث ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک اشتہار میں جو اس شخص نے ۳؍اکتوبر ۱۸۹۱ء کو چھاپ کر تقسیم کروایاتھا: ’’میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے،ان سب باتوں کو مانتاہوں جوقرآن شریف اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اورسیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت و رسالت کو کاذب وکافر جانتاہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی،رسالت حضرت آدم صفی اﷲ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اﷲ ﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘
					(مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۳۰،۲۳۱)
	۲۳؍اکتوبر ۱۸۹۱ء کو جامع مسجد دہلی میں تقریر کی اورمسلمانوں کے اعتراضات کو ٹالنے کے لئے کہا: ’’مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا میں کرتاہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو،اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتاہوں۔‘‘ 			       (مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۵۵)
	غلام احمد قادیانی نے ایک اشتہار شعبان ۱۳۱۴ھ میں چھپوا کر تقسیم کروایا۔جس میں یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں،اپنے ولی اورمجدد ہونے کادعویٰ کیا۔لکھا: ’’ہم بھی مدعی نبوت پرلعنت بھیجتے ہیں۔ ’’لاالہ الااﷲ محمدرسول اﷲ‘‘ کے قائل ہیں اورآنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں…نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف ولایت اورمجددیت کادعویٰ ہے۔‘‘ 		      (مجموعہ اشتہارات ج۲ص۲۹۷)
(۲)محدثیت کا دعویٰ
	اس کے بعد مرزا قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ محدث ہیں اور یہ کہ محدث کا مرتبہ نبوت سے قریب ترین ہے۔ نبی کے بعد محدث، یہ ایک عجیب وغریب دعویٰ تھا۔ اس کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ سند۔ اس نئے اور عجیب دعویٰ کی مرزا قادیانی نے یوں وضاحت کی: ’’نبوت کا دعویٰ نہیںبلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے اور اس میں کیا 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرض مرتب حضرت مولانا اﷲ وسایا 4 1
3 آئینہ مرزا، یا مرزائی ناول حضرت مولانا عبدالحئی کوہاٹی ؒ 7 1
4 ضرورت رسالت (حصہ اوّل) حضرت مولانا سلطان محمود دہلویؒ 251 1
5 ضرورت رسالت (حصہ دوم) ؍؍ ؍؍ ؍؍ 295 1
6 صدع النقاب عن جساسۃ الفنجاب حضرت مولانا سید محمد اویس سکروڈھویؒ 343 1
7 اسلام اور مرزائیت حضرت مولانا عتیق الرحمن آرویؒ 371 1
8 فتنہ قادیانیت جناب صفوۃ الرحمنؒ 411 1
9 قادیانی مسلمان نہیں؟ جناب عبدالرحیم قریشی ؒ 437 1
10 آسمانی کڑک حضرت مولانا ابوالبیان محمد داؤد سپروریؒ 475 1
11 کارزار قادیان حضرت مولانا مفتی محبوب سبحانی واعظ 535 1
12 کلمہ حق حضرت مولانا محمد حسین سرحدیؒ 559 1
13 آسمانی نکاح کے ایک عربی الہام کا ترجمہ 106 3
14 مولوی ثناء اﷲ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ 72 3
15 مرزا کا دعویٰ 200 3
16 پیغمبروں کے بھیجنے کی ضرورت 253 4
17 پیغمبروں کا معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے 255 4
18 پیغمبروں کا منصب نبوت سے معزول ہوناممکن نہیں ہے 256 4
19 پیغمبر خود مختار نہیں ہوتے 257 4
20 پیغمبروں کا انسان ہونا ضروری ہے 257 4
21 پیغمبروں کے انتخاب کے بارہ میں کافروں کی رائے کا رد 258 4
22 کافروں کی رائے کامنشاء 259 4
23 کافروں کی غلط فہمی کا ازالہ 260 4
24 پیغمبروں کے لئے معجزات کی ضرورت 266 4
25 معجزات کی حقیقت 267 4
26 پیغمبروں کا معجزات میں مختلف ہونے کا سبب 268 4
27 تشریح معجزات قسم اول 269 4
28 تحدی کے معجزات کا قاعدہ 270 4
29 دوسری قسم کے معجزات کی تشریح 274 4
30 پیغمبروں کے پاس علم آنے کے ذرائع 275 4
31 نبوت کی تکمیل کے لئے ملائکہ کے انتخاب کی ضرورت 276 4
32 ملائکہ کے پردار ہونے کی وجہ 277 4
33 پیغمبروں کی شریعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ 278 4
34 پیغمبروں کی تعلیم سے سب لوگ برابر مستفید نہیں ہوتے 281 4
35 اختلاف فطرت کے اختیار کرنے کی وجہ 284 4
36 پیغمبر کسی دوزخی کو جنتی نہیں بنا سکتے 288 4
37 پیغمبروں کا جان سے زیادہ محبوب ہونا 293 4
38 پیغمبروں کی تصدیق کا جزو ایمان ہونا 294 4
39 رسول اﷲﷺ کاتمام پیغمبر وں سے افضل ہونا 296 5
40 افضلیت کے معنی کی تشریح 296 5
41 حضرت رسولﷺ کی دعوت کا عام ہونا 298 5
42 دلائل عقلیہ 299 5
43 رسول اﷲﷺ کا خاتم الانبیاء ہونا 307 5
44 دلائل عقلیہ 320 5
45 معجزات علمیہ 331 5
46 معجزات عیسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ 332 5
47 معجزات موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ 334 5
48 معجزہ خلیل اﷲ سے مقابلہ 335 5
49 حضورﷺ کے قطعہ عرب میں مبعوث ہونے کی حکمت 336 5
50 حضورﷺ کے امی ہونے کی حکمت 339 5
51 کفریات مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں 345 6
52 خاتم الانبیائﷺ پر فضلیت کے دعوے 353 6
53 حضرت آدم اور حضرت نوع علیہم السلام پر بھی فضیلت کا دعویٰ 353 6
54 حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پرافضل ہونے کا دعویٰ 354 6
55 تمام انبیاء علیہم السلام پرافضلیت کا دعویٰ 354 6
56 مرزا کے وساوس معہ حوالہ کتب 358 6
57 عبارات مرزا 362 6
58 الہامات شیطانیہ 369 6
59 انگریزی الہامات 370 6
60 ذات وصفات باری تعالیٰ … ابوّب و نبوت 373 7
61 زوجیت 374 7
62 مماثلت 375 7
63 الوہیت 376 7
64 نوم و یقظہ۔جہل وغلطی وغیرہ 377 7
65 حدوث وقدم عالم 378 7
66 نبوت ورسالت 380 7
67 ختم نبوت 384 7
68 دعویٰ نبوت 387 7
69 توہین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام 390 7
70 توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام 390 7
71 توہین حضرت نبی کریمﷺ 396 7
72 سرور عالم ﷺ کی خصوصیات اور مرزا کا دعویٰ ہمسری 400 7
73 ملئِکہ 404 7
74 حیات عیسیٰ علیہ السلام 408 7
76 قادیانیت۔ اسلام کے خلاف انگریزوں کی سازش 439 9
77 مرزا قادیانی کے نت نئے دعوے اورفتنہ انگیزیاں 450 9
78 کئی اور متضاد دعوے 458 9
80 مرزاقادیانی کی پیش گوئیوں کا حشر 463 9
81 گستاخانہ زبان اورگندے خیالات 459 9
82 غلام احمد قادیانی کی عبرتناک موت 469 9
83 کیا قادیانیوں کو مسلمانوں کا فرقہ سمجھاجاسکتاہے؟ 472 9
84 باب اوّل 478 10
85 باب دوئم 491 10
86 باب سوئم 506 10
87 باب چہارم 511 10
88 باب پنجم 513 10
89 باب ششم 524 10
90 نبی اور امتی 537 11
91 ایک سوال اور اس کا جواب 537 11
92 نبی کا ارشاد 539 11
93 امتی کا انکار 548 11
94 مرزا قادیانی کا فیصلہ 558 11
Flag Counter