کتاب بن جائے۔ اس لئے یہاں بھی ہمارا خیال تھا کہ مرزا کی مزید کفریات کو مخلوق کے سامنے پیش کر دیں لیکن تطویل کا خوف مانع ہے۔
یَلَذُّ لَہٗ بَسْطُ الْمَطَاعِنِ فِیْہِمٖ
وَیَجْعَلُ نَقْلًاعَنْ لِسَانِ فُلَانٖ
’’ان کو انبیاء علیہم السلام پرطعن کرنے میں لذت آتی ہے اورطریقہ طعن دوسروں کی زبانی بنایا ہواہے۔‘‘
یَصُوْغُ اصْطِلَاحًا اَنَّ ہٰذَا مَسِیْحُکُمْ
کَمَاسَبَّ اُمًّا ھٰکَذَا اَخَوَانٖ
’’مرزا مسیح ابن مریم پراصطلاحیں گھڑ گھڑ کر طعن کرتا ہے کہ اے نصاریٰ یہ جو تمہارا مسیح ہے۔ جیسے دو حقیقی بھائی ایک دوسرے کو گالی دیں دوسری کی ماں کہہ کر۔‘‘
وَہٰذَا کَمَنْ وَافٰی عَدُوًّ ایَّسُبُّہٗ
بِجَمْعٍ اَشَدَّ السَّبِّ مِنْ شَنَاٰنٖ
’’اوریہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے دشمن کے سامنے آیا ایسے حال میں کہ وہ ایک جماعت کے روبرو اس کو سخت گالییں عداوت سے دے رہاتھا۔‘‘
فَصَیَّرَہٗ رُؤْیَا وَقَالَ بِاٰخِرٍ
اِذِ انْفَتَحَتْ عَیْنِیْ مِنَ الخَفَقَانٖ
’’پس اس دشمن گالیاں دینے والے نے اس کو خواب کی صورت میں ڈھال دیا اورکہا پھر اخیر میں میر ی نیند سے آنکھ کھل گئی۔‘‘
مرزا نے بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو بہت ہی ہاتھ صاف کیا اور مطاعن بیان کرکے دل کاغبار نکالاہے اورکتب محرفہ میںجو چیزیں بھی انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے خلاف ملتی رہیں ان کو نقل کرکے حواشی چڑھائے اور رائی کے دانہ کا پہاڑ بناکرلکھا اور اپنے مقابلہ میں ناکام و ناکامیاب ثابت کرنے کی ہی کوشش کی اور خدانے یہ سمجھنے کی توفیق نہ دی کہ اس قسم کے واقعات جوعصمت انبیاء علیہم السلام پردھبہ لگانے والے ہیں۔ یہی ان کتابوں کی تحریف کا بین ثبوت تھے۔ کیونکہ عصمت انبیاء علیہم السلام کا مسئلہ قطعی اور مسلمات سے ہے اور علماء نے ہمیشہ اسی قسم کے واقعات کو مخالفین کی کتابوںکے محرف ہو جانے کی دلیل بنایا ہے۔
لیکن یہ شعور کیوں ہوتا خدا نے اس کی عقل پر تو پہلے ہی سے پردہ ڈال دیا تھا اس کو تو اس نبوت کی ہوس پڑی ہوئی تھی۔ اسی کو کامیاب بنانے کے درپے تھا۔ چاہے ایمان رہے نہ رہے اور جس طرح بھی ہو سکے انبیاء علیہم السلام کی ناکامیابی اورناقابلیت ظاہر کرکے اپنی نبوت اور اپنے نشانات کو فوقیت دی جائے اورمرزا کی عادت ہے کہ جب کتب محرفہ سے عصمت انبیاء علیہم السلام کے خلاف اشیاء لے لیتاہے توقطرہ کو دریا اور ذرہ کو صحرابناکر خوب ہی مبالغہ کے ساتھ مخلوق کے