’’اور اس منکوحہ کے قصہ میں شیطان نے مرزا کو اپنی وحی سے آسائش اورمنگنی اوروصل کی آرزو دلائی۔‘‘
فَفَضَّحَہٗ رَبُ السَّمَآئِ بِحَوْلِہٖ
وَقْوَّتِہٖ وَاللّٰہُ فِیْہِ کَفَانِیْ
’’رب السمٰوات نے اپنی طاقت اورقوت سے اس کو خوب ہی رسواکیا اوراس میں ہم کو اﷲ کافی ہوا۔‘‘
خدا کا ہزار ہزارشکرہے جس نے اپنی قوت سے ایک خداپرافتراء کرنے والے کذاب اورمفتری کو اسی کے قول کے موافق بد سے بدتر،خبیث،مفتری ٹھہرایا اور خوب رسوا کرکے منہ کالاکیا اوردنیا میں ہی اس کی ناک کٹ گئی اورسچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیاگیا اور مسلمانوں پر اس بے نیاز خدا نے فضل فرمایا کہ مرزا کو داماد احمد بیگ کے سامنے موت دے دی۔
وَکَانَ ادَّعٰی وَحْیًا سِنِیْنَ عَدِیْدَۃً
فَجَآئَ یُحَاکِیْ فَعْلَۃَ الظَّرِبَانٖ
’’مرزاس معاملہ میں مدتوں وحی کا دعویٰ کرتارہا اور بالآخر وحی مثل حرکت ظربان۱؎کے نکلی۔‘‘
۱؎ جانور بدبودار مشابہ بلی۔
وَدَلَّاہُ شَیْطَانَاہُ فِیْ ذَاکَ بُرْھَۃً
وَلَمْ یَدْرِ شَیْطَانَانِ لَایَفِیَانٖ
’’مرزا کو دو شیطانوں نے ایک زمانہ تک پھسلایا اوراس نے یہ نہ جانا کہ اس میں دو شیطان وفا نہیں کریںگے۔‘‘
دو شیطانوں سے مراد اس کے دو مرید ہیں جن کو دو فرشتے کہتاتھا۔
وَمَا ذَابَ فِی الْعُمْرِ الطَّوِیْلِ لَہٗ فَذَا
ھِجَآئُ خِیَارِ الْخَلْقِ غِبَّ لِعَانٖ
’’اوراس کو تو اپنی طویل زندگی میں سوائے برگزیدہ لوگوں کی ہجو اور لعنت کرنے کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔‘‘
تَفَکَّہَ فِیْ عِرْضِ النَّبِیِّیْنَ کَافِرُٗ
عُتُلّ ُٗ زَنِیْمُٗ کَانَ حَقَّ مُھَانٖ
’’کافر فحش گواصیل بنے ہوئے نے انبیاء کی آبروریزی میں خوب مزہ درست کیا جو خود ہی حقیقی معنی سے نفس الامر میں ذلیل تھا۔‘‘
مرزا کی ساری زندگی برگزیدہ لوگوں کی ہجو ہی میں گزری اورہمیشہ انبیاء علیہم السلام کی توہینیںہی کرکے مزہ اٹھایا۔ ہم اگر مرزا کی عبارتوں سے محض ان کلمات ہی کو جمع کرنا شروع کر دیں جو انبیاء علیہم السلام کی تنقیص اورتوہین میں ملتی ہیں توغالب گمان یہ ہے کہ ایک بڑی مستقل