اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ ہوکر اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اوراس کام کو پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اول ص۳۹۶،خزائن ج۳ص۳۰۵)
اور جب محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ ہوگیا تو دوسرا تیارشدہ الہام سنئے:
۲… ’’میں بار بارکہتاہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا جیساکہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔‘‘ (انجام آتھم حاشیہ ص۳۱،خزائن ج۱۱ص۳۱)
۳… ’’یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو!یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقین سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔وہ ہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس کی سنتوںاورطریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آتاہے۔ براہین احمدیہ میں اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ جو میرے پر کھولاگیااوروہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے ص۴۹۶ میں مذکور ہے:’’یاادم اسکن انت وزوجک الجنۃ الخ‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ص۳۳۸)
۴… ’’سوچاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیںگی توکیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیںگے اورکیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیںگے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اورنہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳،خزائن ج۱۱ص۳۳۷)
۵… ’’۱۸۹۱ء میں اس عاجز کو سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ موت تک نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کردی گئی اوریہ معلوم ہورہاتھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا۔ تب اسی حالت میں مجھے الہام ہوا: ’’الحق من ربک فلاتکونن من الممترین‘‘یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتاہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۹۸،خزائن ج۳ص۳۰۶)
وَمَنّٰی لَہُ الشَّیْطَانُ فِیْہَا بِوَحْیِہٖ
رِفَآئً وَّوَصْلاً خِطْبَۃً وَّتَھَانِیْ