ہیں:’’میرا کام جس کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں۔ یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑدوں اوربجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت اورشان دنیا پرظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اوریہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تومیں جھوٹاہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے اوروہ انجام کو نہیںدیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں کام کر دکھایا جو مسیح اورمہدی کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچاہوں اوراگر کچھ نہ ہوا اورمرگیا توسب گواہ رہیں کہ میں جھوٹاہوں۔‘‘
مرزا قادیانی نے یہاں تین دعوے کئے ہیں۔
اوّل! عیسیٰ پرستی کے ستون کوتوڑنا۔
دوم! بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلانا۔
سوئم! آنحضرت ﷺ کی جلالت اورشان دنیاپرظاہر کرنا۔
اس کے بعدبڑے دعویٰ سے یہ لکھتے ہیں کہ اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ باتیں میں پوری نہ کرسکوں اورمر جاؤں توسب گواہ رہیں کہ میں جھوٹاہوں۔
اب میں مرزائی صاحبان سے یہ دریافت کرنا چاہتاہوں کہ وہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی گواہی کیو ں نہیں دیتے۔ اب انہیں کیاعذر ہے۔ مرزائی حضرات ان زوردار دعوؤں کو ملاحظہ کریں اوربتلائیں کہ ان میںکوئی بات بھی ان کی زندگی میں پوری ہوئی یا ن کے خلیفہ اول یا دوم نے سچ کر کے دکھائی؟
کیا عیسائیت دنیا سے نیست و نابود ہوگئی؟ کیا تثلیث کی بجائے توحید دنیا میں پھیل گئی؟ ہرگز ہرگز نہیں۔ تمام دنیا نے دیکھ لیا اور دیکھ رہی ہے کہ مرزا قادیانی کے آنے کے بعد اسلام کی حالت بدتر ہوگئی اوربالخصوص اب جیسی حالت زار ہے۔ جو نام کے مسلمان ہیں۔ وہ بھی ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عیسائی و آریہ ، دہریہ اور بے دین ہوتے جاتے ہیں۔
اگر انصاف اور حق طلبی سے دیکھا جائے تو مرزا قادیانی کے وجود سے تثلیث کے ماننے والے فنا توکیاہوتے،بہت کچھ ان کی ترقی ہوگئی اورتوحید کی جگہ سار ی دنیا میں تثلیث پھیل گئی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے محض مسلمانوں کو دھوکہ اورفریب دینے اور اپنے دام میں لانے کے لئے زوردار دعوے کر دیئے۔ ورنہ وہ اور ان کے متبعین تو عیسائیوں کے پورے معین ومدد گار ہیں اوراسلام کے پکے دشمن۔
بجائے اس کے مرزا قادیانی اپنی سعی سے لوگوں کو مسلمان بناتے۔ انہوں نے آتے