یہ مرزا قادیانی کا بالکل سفید جھوٹ ہے۔ اسلام کے تمام فرقے اس بات کو ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ اگر کسی کو دعویٰ ہے توثابت کرے۔ مگر میں دعوے سے کہتاہوں کہ کوئی مرزائی تاقیامت ثابت نہیں کر سکے گا۔
نہ خنجر اٹھے ہے، نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
جھوٹ نمبر۷
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۱، خزائن ج۲۱ص۱۱۸)میں لکھا ہے کہ ’’اور بعض احادیث میں بھی آچکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہوگی کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔‘‘
یہ مرزا قادیانی نے بالکل جھوٹ لکھا ہے۔ کتب احادیث دنیا میں موجود ہیں۔ اٹھ نہیں گئیں۔ اگر ہمت ہے توآؤاورمرزا قادیانی کو سچا ثابت کردکھاؤ ورنہ ایسے مذہب سے توبہ کرو۔
جھوٹ نمبر۸
(تحفہ گولڑویہ ص۹،خزائن ج۱۷ص۱۰۰)پر مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ:’’اوران کی (یعنی کشمیر) کی پورانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے۔ جو بلاد شام کی طرف سے آیاتھا۔جس کو قریباً انیس سو برس آئے ہوئے گزرگئے اورساتھ اس کے بعض شاگردتھے اور وہ کوہ سلیمان پرعبادت کرتارہا اوراس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا۔ جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے۔جو بلاد شام کی طرف سے آیاتھا اوراس کا نام یوز ہے۔‘‘
مرزا قادیانی نے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ صریح جھوٹ لکھا ہے۔ کشمیر کی قدیم و جدید سب تواریخ موجود ہیں۔ کسی تاریخ سے ایسا نکال دو۔ ورنہ خدا سے ڈرو اور ایسے جھوٹے مذہب کو خیر باد کہہ دو۔
تیسرا معیار
اب میںمرزاقادیانی کا ایک قو ل پیش کرتاہوں۔ جس سے مرزا قادیانی کی مسیحیت خاک میں مل جاتی ہے او ر وہ اپنے پختہ اقرار سے جھوٹے ثابت ہو تے ہیں۔ اگر کسی کو ہمت ہے تو مرد بنے اورمیدان میں نکلے اور سچا کر کے دکھلائے۔
مرزا قادیانی اخبار البدر مطبوعہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء (مکتوبات ج۱ ص۴۹۵ جدید) میں لکھتے