جو دمشق میں آسمان سے اتریں گے۔ لیکن چند ہی سال بعد یہ دعویٰ کر دیا کہ وہ خود مسیح موعود ہیں:
’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں پیش گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ص۲۹۵)
’’اور یہی عیسیٰ ہے جس کا انتظار تھا اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری ہی نسبت کہاگیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنادیں گے اورنیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہیں جو آنے والاتھا۔‘‘ (کشتی نوح ص۴۸،خزائن ج۱۹ص۵۲)
(۵)نبوت کادعویٰ
ایک دور میں خودغلام احمد قادیانی نے لکھا کہ آنے والا مسیح نبی نہیں،عام مسلمانوں کی طرح مسلمان ہوگا۔ کیونکہ ’’آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی‘‘ لیکن اب مسیح موعود ہونے کے دعوے کے ساتھ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ بھی کر دیا اور اپنی ہی بات کو انتہائی بھونڈے انداز میں جھٹلایا اورکہا: ’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا ہے اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان دیاگیا ہے کہ وہ نبی ہوگا اور امتی بھی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۹،خزائن ج۲۲ص۳۱)
نبوت کے دعوے کے ساتھ ایک اور شرانگیزی یہ کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے اس مفہوم کو جو شروع سے چلاآرہاتھا کہ رسول اﷲ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اس مفہوم کو بدل کر یہ معنی پہنائے کہ آپ ﷺ کے بعد بھی (نعوذ باﷲ من ذلک) نبی آسکتے ہیں۔ اس شرانگیز تاویل سے نبوت کے دعوے کے فتنہ کا درورازہ کھول دیا اورکہا: ’’نیز خاتم النّبیین ہونا ہمارے نبیﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ یوں ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اورنبوت تامہ نہیںرکھا، اس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں،اس تحدید سے باہر ہے۔‘‘ (ازالہ ص۵۷۵،خزائن ج۳ص۴۱۰)
’’اور بالآخر یاد رہے کہ اگر ایک امتی جو محض پیروی آنحضرت ﷺ سے درجہ وحی، الہام اور نبوت پاتا ہے۔نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ وہ امتی ہے اور اس کا اپنا وجود کچھ نہیں اور اس کا اپنا کمال، بنی نوع کا کمال ہے اور وہ صرف نبی نہیں کہلاتا بلکہ نبی بھی اور امتی بھی۔ مگر ایسے نبی کا دوبارہ آنا جو امتی ہے،ختم نبوت کے منافی ہے۔‘‘
(چشمہ مسیحی ص۶۹،خزائن ج۲۰ص۳۸۳)