تعداد میں بالکل فرق نہیں آتا۔ جو دوزخی لکھے ہوئے تھے۔ وہ ان کے آنے پربھی دوزخی ہی رہتے ہیں۔ ایک بھی ان میں سے جنتی نہیں ہوسکتا اورجو جنتی لکھے ہوئے ہیں۔ وہ ان کے آنے پر بھی جنتی ہی رہتے ہیں۔ غرض انبیاء علیہم السلام کے آنے کے بعد جنتیوں اور دوزخیوں کی شمار میں ایک آدمی کا فرق بھی نہیں پڑتا۔
ترمذی شریف میں حدیث ہے کہ ایک دن رسولﷺ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاس تشریف لائے اورآپؐ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کتابیں کیسی ہیں توصحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ حضورﷺ ہم کو معلوم نہیں ہے ۔ آپ ؐ بتادیں تو البتہ معلوم ہو جائے گا۔آپﷺ نے فرمایا جو کتاب میری دائیں ہاتھ میں ہے۔ یہ رب العٰلمین کی طرف سے ہے۔ اس میں تمام اہل جنت کے نام اوران کے باپوں کے اوران کے قبیلوں کے نام لکھ کر سب کوجوڑ لگادیا گیا ہے۔ ان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے اورجو کتاب میرے بائیں ہاتھ میں ہے یہ رب العٰلمین کی طرف سے ہے۔ اس میں تمام اہل نار کے نام اوران کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام لکھ کر سب کو جوڑ لگادیاگیا ہے۔ ان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہے اور قرآن شریف میں بھی اس قسم کی آیتیں بہت سی ہیں۔ جو اس بات پردلالت کرتی ہیں کہ جنتیوں اور دوزخیوں کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ اس میں تغیر وتبدل ممکن نہیں ہے۔
نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہو:’’ان الذین کفروا سواء علیھم انذرتھم ام لم تنذرھم لایؤمنون(سورہ بقرہ)‘‘{بیشک جو لوگ کافر ہو چکے ہیں برابر ہے ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیںگے۔} یعنی کافروں کے متعلق ازلی فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ ازلی کافر ہی رہیں گے۔آپ ان کو کتنا ہی ڈرائیں مگر وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔
’’لقد حق القول علی اکثرھم فھم لایؤمنون (سورہ یٰسین)‘‘{ ان میں سے اکثر لوگوں پر (تقدیری) بات ثابت ہو چکی ہے۔ سو یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاویں گے۔} یعنی جن کے متعلق ازل میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ لوگ دوزخ میں جائیںگے۔ وہ ہرگز ایمان نہیں لاسکتے۔:’’افمن حق علیہ کلمۃ العذاب افانت تنقذ من فی النار (سورہ زمر)‘‘{بھلا جس شخص پرعذاب کی (ازلی تقدیری)بات محقق ہوچکی تو کیا آپ ایسے شخص کو جو کہ (علم الٰہی میں)دوزخ میں ہے(موجبات نارسے)چھڑا سکتے ہیں۔ }یعنی جو دوزخ میں جانے والے ہیں۔ وہ کوشش سے بھی ضلالت سے نہ نکلیںگے