سے اعلیٰ وافضل ہے۔اس لئے کہ جسم سے روح افضل ہے۔ لہٰذا یہ روحانی امتیاز بھی جسمانی امتیاز سے افضل واعلیٰ ہوگا۔
لیکن کفار نے امتیاز روحانی کو نظرانداز کرکے فقط امتیاز جسمانی کو دیکھا اور اس کے نظر نہ آنے سے نبوت کا انکار کردیا۔
دوسری لغزش کفار سے یہ ہوئی کہ وہ امتیاز کے شوق میں فریفتہ ہوکر غرض نبوت کو بالکل بھول گئے یعنی یہ نہیں سوچا کہ انبیاء علیہم السلام کس غرض کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ آیا وہ غرض انسان کے نبی بنانے سے حاصل ہوتی ہے۔ یا فرشتہ کے نبی بنانے سے ۔ اگرغرض صرف یہی ہوتی کہ انبیاء علیہم السلام کا امتیاز ظاہر کردیا جائے توشاید ملائکہ ہی کو منصب نبوت کے لئے منتخب کیا جاتا لیکن غرض یہ نہیں ہے۔ بلکہ غرض بنی نوع انسان کی اصلاح ہے۔ جو افادہ واستفادہ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔لہٰذا انتخاب کے وقت اس بات کی رعایت ضروری ہوگی کہ افادہ و استفادہ میں سہولت کون سی صورت میں ہوسکتی ہے؟ یہ نہیں ہوگا کہ فقط امتیاز ہی کو گائے چلے جائیں۔ افادہ و استفادہ حاصل ہو یا نہ ہو۔
اس غرض کو مدنظررکھتے ہوئے کوئی ذی عقل یہ رائے نہیں دے سکتا کہ نبی فرشتہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ افادہ و استفادہ میں جو سہولت نبی کے ہم جنس ہونے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ وہ غیر جنس کی صورت میں ہرگز نہیں ہوسکتی۔ خصوصاً غیر جنس میں بھی فرشتہ۔
فرشتہ سے توافادہ واستفادہ قریب قریب ناممکن ہے۔ قرآن شریف میں اس بات کو واضح کردیاگیا ہے کہ نبی کے فرشتہ ہونے کی صورت میں افادہ و استفادہ ممکن نہیںہے:’’ولو جعلنہ ملکالجعلنہ رجلا وللبسنا علیھم مایلبسون (سورہ انعام)‘‘{اور اگر ہم رسول کوئی فرشتہ تجویز کرتے تو البتہ ہم اس کو آدمی کی صورت میں بناتے اور ہمارے اس فعل سے ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب اشکال کررہے ہیں۔}آیت کا حاصل یہ ہے کہ اگر فرشتہ کو نبی بنایا جاتا تواس کی دوصورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ اس کو اصلی شکل میں بھیجا جائے۔دوسری یہ کہ اس کو انسان کی شکل میں بھیجا جائے۔ جیسا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضورﷺ کے پاس حضرت دحیہ رضی اﷲ عنہ کی شکل میں آیا کرتے تھے۔
اول صورت تو ممکن ہی نہیں۔ اس لئے کہ عام لوگ ان حواس متعارفہ کے ساتھ فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے پر قادر نہیں ہیں۔دیکھتے ہی خوف کے مارے مر جائیں یا بے ہوش ہو کرگر جائیں۔ عام لوگ تو درکنار رسول اﷲﷺ جیسے ذی حوصلہ اوربہادر( جن سے بڑھ کر آج