تورات مىں حضور علىہ السلام کى امت کى اىک خصوصىت ىہ بھى ذکر کى گئى ہے کہ ان کى ىعنى مسلمانوں کى مسجدوں مىں ان کے ذکر و شغل اور تسبىحات پڑھنے کى گونج اس طرح آىا کرے گى جىسا کہ شہد کى مکھىوں کے مہال (غول) گزرنے پر اس کى گونج سنائى دىتى ہے۔(حلبىہ)
تورات مىں حضور علىہ السلام کى امت کى ىہ خصوصىت بھى مذکور ہے کہ:
راتوں مىں آسمان کى فضا مىں ان کى آوازىں اس طرح اُبھرا کرىں گى جىسا کہ شہد کى مکھىوں کے مہال کى گونج ہوتى ہے۔(حلبىہ)
زبور مىں حضور علىہ السلام کا نام ”حاط حاط“ اور ”فلاح“ ذکر کىا گىا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ جس کے ذرىعہ اللہ باطل کو مٹاتا ہے۔(حلبىہ)
زبور مىں حضور علىہ السلام کو ”فارق“ اور ”فاروق“ بھى کہا گىا ہے ىعنى حق اور باطل مىں فرق کرنے والا۔(حلبىہ)
رسول اللہ کى پىدائش سے پہلے قرىش زبردست خشک سالى اور قحط مىں مبتلا تھے مگر جب ىہ سال آىا جس مىں آنحضرت کا حمل ہوا تو اچانک دنىا ہى بدل گئى ،زمىن سبزہ زار بن گئى اور درخت ہرے بھرے ہو کر پھلوں کے بوجھ سے دب گئے (سىرت حلبىہ)
حضرت کعب بن احبار فرماتے ہىں کہ مىں نے تورات مىں پڑھا ہے کہ رسول