مٹول نہ کرے، یہ سراسر ظلم وزیادتی ہے۔ ’’صحیح بخاری: ۱/۳۲۳‘‘ میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ‘‘ ۔ ’’ مال دار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔‘‘
بلکہ ’’سنن ابن ماجہ :۱/۱۷۶‘‘میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : ’’أَعْطُوْا الأَجِیْرَ أَجْرَہٗ قَبْلَ أَنْ یَّجِفَّ عَرَقُہٗ ‘‘ ۔ ’’مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔‘‘… نیز ’’صحیح بخاری :۱/۹‘‘میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’تمہارے غلام، خادم ، ملازم ،مزدور تمہارے بھائی ہیں،لہٰذا تم میں جس کے قبضے میں اس کا کوئی بھائی ہو،تو اس کو ویسا ہی کھلائے اور پہنائے، جیسا وہ خود کھاتا اورپہنتا ہے ، اور اس کوایسا کام کرنے کو نہ کہے، جس کی وہ استطاعت نہ رکھتا ہو، اور کبھی ایساکام کرنے کو کہے، تو خود بھی اس کا ہاتھ بٹائے۔‘‘
’’ إِخْوَانُکُمْ خَوَلُکُمْ جَعَلَہُمُ اللّٰہُ تَحْتَ أَیْدِیکُمْ ، فَمَنْ کَانَ أَخُوْہُ تَحْتَ یَدِہٖ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ ، وَلْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ ، وَلا تُکَلِّفُوْہُمْ مَا یَغْلِبُہُمْ ، فَإِنْ کَلَّفْتُمُوْہُمْ فَأَعِیْنُوْہُمْ ‘‘ ۔
اور فریقِ ثانی (مزدور وغیرہ) کو چاہیے کہ فریقِ اول (منتظم وغیرہ) جو بھی کام سونپے، وہ تن من دھن سے پورے کرے، ان میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے دے، اور امانت داری ودیانت داری کا خیال رکھے، جیسا ذمہ دار وں کے سامنے کام کرتا ہے، ایسے ہی اس کے غائبانہ میں بھی کرے، اوراپنے مالک کو کسی طرح کا شکوہ شکایت کا موقع نہ دے، کیوں کہ اجیر کی صفت قرآنِ کریم میں یہ بیان کی گئی ہے: {إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأَمِیْنُ} ۔ ’’بلاشبہ بہتر اجیر وہ ہے جو طاقت ور اور امانت دار ہو۔‘‘ (سورۂ قصص:۲۶)