مالک ومزدور(ایک ساتھ ): شکریہ مفتی صاحب !
آئندہ ہم اپنے اوپر واجب حقوق کی ادائیگی کا ضرور بالضرور خیال رکھیں گے۔
مفتی ماجد صاحب:
آج ہر شخص اپنے حقوق کا خواہاں ہے ، جس کے لیے باقاعدہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کی مختلف تنظیمیں اور یونینس(Unions) ہیں،مگر ادائیگی ٔ فرض کے لیے نہ تو کوئی تنظیم اور انجمن موجود ہے،نہ ہی اس کا پاس ولحاظ کیا جاتا ہے،اکبر الٰہ آبادی نے تو اسی کا رونا روتے ہوئے کہاتھا: ؎
نئی تہذیب میں دِقت زیادہ تو نہیں ہوتی!
مذاہب قائم رہتے،صرف ایمان جاتا ہے!
اور اسی کو علامہ اقبال نے کہاتھا : ؎
وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود!
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود!
اللہ تعالیٰ ہم سب کو، اپنے اوپر واجب حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے، جب ہر شخص اپنے اوپر حق کو ادا کرے گا،تو سب کے حقوق ادا ہوجائیں گے، اور کسی کوکسی سے کوئی گلہ اور شکوہ نہ ہوگا، اور ہمارا معاشرہ امن ، چین ، سکون اور شانتی کا گہوارہ بن جائے گا۔