ہٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّہٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَّجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا} ۔اور{مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیَانِ}سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کی اہمیت وافادیت ثابت ہوتی ہے۔
صاحبِ در مختار علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرضیتِ تعلیم کے متعلق فرماتے ہیں:
’’ وَاعْلَمْ أَنَّ تَعَلُّمَ الْعِلْمِ یَکُوْنُ فَرْضَ عَیْنٍ : وَہُوَ بِقَدْرِ مَا یَحْتَاجُ لِدِیْنِہٖ ۔ وَفَرْضَ کِفَایَۃٍ : وَہُوَ مَا زَادَ عَلَیْہِ لِنَفْعِ غَیْرِہٖ ‘‘ ۔
’’علم کا حاصل کرنا فرضِ عین اور فرضِ کفایہ ہے، آدمی اپنے دین کے لیے، جس قدر علم کا محتاج ہے ، اس کا حاصل کرنا فرضِ عین ہے ، اور اس سے زائد دوسروں کی نفع رسانی کے لیے ،جس علم کا محتاج ہے، اس کا حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے۔‘‘
علامہ ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ اپنی معرکۃ الآرا تصنیف’’ رد المحتار - المعروف بـ ’’ الشامي ‘‘میں ’’درمختار‘‘ کی عبارت : ’’ فرض کفایۃ وہو ما زاد علیہ لنفع غیرہ ‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’فرضِ کفایہ علمِ دینی ودنیوی دونوں کو شامل ہے، علمِ دینی: جیسے نمازِ جنازہ ۔ اورعلمِ دنیوی: جیسے ضروری مصنوعات کا علم۔ صاحبِ’’ تبیین المحارم‘‘ فرماتے ہیںکہ: فرضِ کفایہ سے مرادہرایسا علم ہے ،جس کے بغیر دنیوی اُمور انجام پذیر نہیں ہوسکتے ،مثلاً: طب ، حساب ، اور اصولِ صناعت وزراعت وغیرہ۔‘‘
وَفَرْضُ کِفَایَۃٍ : یَتَنَاوَلُ مَا ہُوَ دِیْنِيٌّ کَصَلاۃِ الْجَنَازَۃِ ، وَدُنْیَوِيٌّ کَالصَّنَائِعِ الْمُحْتَاجِ إِلَیْہَا ؛ ۔۔۔۔۔۔۔ قَالَ فِيْ تَبْیِیْنِ الْمَحَارِمِ : وَأَمَّا فَرْضُ