۲-… ’’ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ ‘‘ ۔
’’علمِ دین کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘
ان دونوں حدیثوں میں جس ’’علم‘‘ کا ذکر ہے، وہ علمِ شرعی ہی ہے ۔ نیزعرف وعادت میں بھی’’ علم‘‘ سے ، علمِ دینی ہی مراد ہوتا ہے ، جن فنون کو لوگ علم سے موسوم کرتے ہیں، ان کے جاننے والوں کو ، عالم صاحب ، حافظ صاحب ، قاری صاحب نہیں کہا جاتا ، بلکہ وہ انہی فنون کی طرف منسوب ہوکر، ڈاکٹر صاحب، انجینئر صاحب ، میکینکل صاحب ، سائنسٹ صاحب وغیرہ کہلاتے ہیں۔
غرضیکہ ’’علم‘‘ سے علمِ شرعی کامراد ہونا، نہ صرف کتاب اللہ اورسنتِ رسول اللہ سے ثابت ہے ، بلکہ عرف ورَواج بھی اس پر شاہدِ عدل ہے، اور اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں ، اور اگر ہو، تو اختلاف نہیں ،بلکہ خلاف ہے۔
لیکناِن تما م باتوں کے باوجود- کہ ہمارا مستقبل ، ہماری عزت ورفعت اور ہماری فلاح وترقی، ایمان ،عملِ صالح، علومِ دینیہ اورطاعت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، کہ علومِ عصریہ کا حاصل کرنا، نہ صرف مباح ، بلکہ فرضِ کفایہ ہے ، جیسا کہ ارشادِ خداوندی: {وَعَلَّمْنَاہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ}۔اور {وَأَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ}۔سے صنعتِ زرہ سازی ،… اور {وَأَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ}سے مختلف مصنوعات ،مثلاً؛ برتن اور دیگر ضروری اشیاء کی صنعت ،… اور{وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا} سے ،کشتی و جہاز سازی وغیرہ کی صنعت کی اباحت ،…اور {وَہُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ