الْکِفَایَۃِ مِنَ الْعِلْمِ ، فَہُوَ کُلُّ عِلْمٍ لا یُسْتَغْنَی عَنْہُ فِيْ قِوَامِ أُمُوْرِ الدُّنْیَا کَالطِّبِّ وَالْحِسَابِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَأُصُوْلِ الصَّنَاعَاتِ وَالْفَلاَّحَۃِ کَالْحِیَاکَۃِ وَالسِّیَاسَۃِ وَالْحِجَامَۃِ ۔ اھـ ۔ (رد المحتار:۱/۱۲۶)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علمِ دین کا حاصل کرنا فرضِ عین ہے ، اسی میں ہماری بقا وفلاح اور عزت وترقی مضمر ہے۔ اور علومِ دنیویہ (فنون)کا حاصل کرنا نہ صرف جائز ومباح ،بلکہ فرضِ کفایہ ہے ۔
ہمارے اور غیروں کی ترقی کے اصول جدا جدا ہیں۔غیر چوںکہ احکامِ شرعیہ کے مکلف نہیں، اس لیے دنیوی ترقی کے لیے انہوں نے جوغیر شرعی اصول اَپنارکھے ہیں،دنیا میں ان پر اس کا کوئی وبال نہیں ہوگا،اور وہ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں گے، جب کہ مسلمان شریعت کے مکلف ہیں، اگروہ اصولِ شرعیہ کو چھوڑ کر، غیر شرعی اصولوں کو اپناکر، ترقی کرنا چاہتے ہیں، تو وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے ،اور اگرکچھ ترقی کر بھی لی، تو وہ پائیدا ر نہیں ہو سکتی۔
… خُذْ مَا صَفیٰ وَدَعْ مَا کَدِرْ …
… اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ حَیْثُ مَا وَجَدَ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا …