’’ ایمان وعلم کے سببِ رفعِ درجات کا مطلب -کثرتِ ثواب ہے ، جس کی وجہ سے درجات بلند ہوتے ہیں ، اور بلندی ٔ درجات ؛ درجاتِ معنوی وحِسّی دونوں کو شامل ہے ، یعنی اللہ رب العزت اہلِ ایمان وعلم کو دنیا میں بھی اونچے مقام ومرتبہ ، اور مقبولیتِ عامہ سے نوازتے ہیں ، اور آخرت میں بھی جنت میں اس کا مقام بلند وبالا ہوگا،… اور ’’علم‘‘ سے مراد’’ علمِ شرعی‘‘ ہی ہے ، جس کا مدار علمِ تفسیر ، علمِ حدیث اور علمِ فقہ پر ہے۔‘‘
ما في ’’ فتح الباري لإبن حجر العسقلاني ‘‘ : اَلْمُرَادُ بِالْعِلْمِ ؛ اَلْعِلْمُ الشَّرْعِيُّ : اَلَّذِيْ یُفِیْدُ مَا یَجِبُ عَلَی الْمُکَلَّفِ ؛ مِنْ أَمْرِ دِیْنِہٖ فِيْ عِبَادَاتِہٖ وَمُعَامَلاتِہٖ ۔ وَالْعِلْمُ بِاللّٰہِ وَصِفَاتِہٖ ، وَمَا یَجِبُ لَہٗ مِنَ الْقِیَامِ بِأَمْرِہٖ وَتَنْزِیْہِہٖ عَنِ النَّقَائِصِ ، وَمَدَارُ ذٰلِکَ عَلَی التَّفْسِیْرِ وَالْحَدِیْثِ وَالْفِقْہِ ۔ (۱/۱۸۷)
ما في ’’ أحکام القرآن للتہانوي ‘‘ : یَرْفَعِ اللّٰہُ بِہَا الْعَالِمَ وَالْطَّالِبَ لِلْحَقِّ ۔ (۵/۲۳)
علم سے علمِ شرعی کے مراد ہونے پر،’’صحیح مسلم‘‘ اور’’سننِ ابن ماجہ‘‘ کی یہ دونوں حدیثیں بھی شاہد ہیں :
۱-… ’’ مَنِ الْتَمَسَ طَرِیْقًا یَّلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَہَّلَ اللّٰہُ لَہٗ طَرِیْقًا إِلَی الْجَنَّۃِ ‘‘ ۔ ’’جو شخص کسی ایسے راستہ کا متلاشی ہو، جس میں وہ علم کو تلاش کرے ، اللہ رب العزت اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرمادیتے ہیں۔‘‘