مفتی صاحب : محترم زید صاحب !
بکر صاحب نے جو باتیں کہیں ،وہ بالکل بجا ہیں ، اس لیے کہ ہمارے مستقبل کا روشن وتابناک ہونا ،عصری علوم پر نہیں ، بلکہ ایمان وعملِ صالح پر موقوف ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے :
{وَلَوْ أَنَّہُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالأَرْضِ} ۔’’اور اگر بستیوں والے ایمان لے آئے ہوتے اور پرہیزگاری اختیار کی ہوتی تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔‘‘(سورۂ اَعراف:۹۶)
اسی طرح ہماری عزت وسرخروئی ، رفعت وبلندی ، فنا اور بقاء ، ایمانِ کامل کے ساتھ مشروط ہے ، ارشادِ خداوندی ہے :
{وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ} ۔
’’تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن رہے۔‘‘ (سورۂ آل عمران:۱۳۹)
{وَتِلْکَ الْقُرٰیٓ أَہْلَکْنٰہُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَہْلِکِہِمْ مَّوْعِدًا}
’’اور یہ بستیاں وہ ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کرڈالا جب انہوں نے ظلم کیا ، اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت متعین کیاتھا۔‘‘ (سورۂ کہف:۵۹)
اسی طرح زید کا یہ کہنا کہ ’’علم‘‘ سے، علومِ دینیہ ہی مراد ہیں، یہ بھی بالکل صحیح ہے، کیوں کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ- ’’فتح الباری :۱/۱۸۶‘‘پر، ارشادِ خداوندی : {یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوْتُوْا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ} کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :