عمرو، زید اور بکر:(تینوں مفتی صاحب کے پاس پہنچ کر):
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
مفتی صاحب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کہیے جناب! کیسے آنا ہوا؟ آپ لوگوں کے مزاج تو بخیر ہیں؟ کیا کوئی مسئلہ درپیش ہے کہ آـپ لوگ ہانپتے کانپتے ، یہاں پہنچے ہوں؟!
( عمرو-فضولی- زید اور بکر کی پوری داستان مفتی صاحب کے سامنے بیان کرتاہے ۔)
عمرو: حضرت مفتی صاحب !
زید کا یہ دعوی ہے کہ مسلمانوں کا روشن مستقبل ، وجود وبقاء ، عزت وسرخروئی اور فلاح وترقی، عصری علوم کے حاصل کرنے اور اس میں سبقت لیجانے پر منحصر ہے، اور دینی علوم میں اس کی ضمانت نہیں ہے۔… جب کہ بکر زید کے اس نقطہ ٔ نظرکے بالکل مخالف ہے، اس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو عصری علوم کی قطعاً ضرورت نہیں ،کیوں کہ مسلمانوں کا روشن مستقبل ، وجود وبقاء ، عزت وسرخروئی اور فلاح وترقی ، ایمان ،علمِ شرعی، عملِ صالح ، تقوی وطہارت اور اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر موقوف ہے،نہ کہ دنیوی علوم پر،…بلکہ دنیوی علوم پر ’’علم ‘‘کا اِطلاق ہی غلط ہے۔
اب آپ شریعت کی روشنی میں ان دونوں کے اس اختلافِ نظر وفکر کو دور فرما کر ہم سب کو ممنون ومشکور فرمائیں!