بکر: اس لیے آپ اپنے فکرو خیال کی اصلاح کرکے، سچے دل سے ربِ غفور کے سامنے توبہ کرلیجئے۔
زید (دانش ور) : بھائی بکر ، مجھے آپ کی باتوں سے اتفاق نہیں ہے ، کیوں کہ آپ کی باتوں سے ایسا معلوم ہورہا ہے کہ علومِ عصریہ کی بالکل ہی ضرورت نہیں ہے ، اوریہ علوم بالکل لغو وبے کا ر ہیں ، اور قوم کا اس میدان میں آگے بڑھنا آپ کو انتہائی ناگوار ہے۔
(عمرو-فضولی- راستے سے گزررہا تھا کہ زید اور بکر کو بحث ومباحثہ میں الجھا ہوا پایاتو بیچ میں ٹپک پڑا اور کہنے لگا:)
کیا بات ہے ، تم دونوں کیوں بحث ومباحثہ کررہے ہوں ؟
عمرو (دونوں نے اپنی اپنی روداد سنائی ، تو عمرو کہنے لگا) :
ٹھیک ہے! اگر آپ اپنے اس فکری ونظر ی اختلاف کا شرعی حل چاہتے ہیں، تو چلئے، اس شہر میں ایک مفتی صاحب رہتے ہیں، جن سے میرے اچھے تعلقات ہیں، وہ بڑے ذہین، فطین، حاضر جواب، علومِ شرعیہ سے واقف اور نباضِ وقت ہیں ، وہ آپ دونوں کے اس اختلاف کا شرعی حل پیش فرما کر، آپ کو مطمئن کر دیں گے۔
(زید اور بکر یک زبان ہوکر) :
ٹھیک ہے عمرو ! ہم سب مفتی صاحب کے پاس چلنے کے لیے تیار ہیں۔
عمرو : تو چلو پھر دیر کس بات کی !؟