کے ان دو اسباق کے علاوہ باقی ہر وقت عربی ادب ہی کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں ، عربی میں نثر پر زیادہ توجہ تھی، نظم نسبتاً کم پڑھائی جاتی تھی، نظم میں قصیدۂ بانت سعاد، دیوانِ حماسہ، عشر قصائد، شنفریٰ کا قصیدۂ لامیۃ العرب، معری کا دیوانِ سقط الزند شامل ہے، قدیم معیاری کتابوں میں عرب صاحب کو ’’نہج البلاغۃ‘‘ بھی بہت پسند تھی؛ لیکن انہوں نے صرف اس کا خطوط کا حصہ پڑھایا جو ادب عالی کا بہت کامیاب نمونہ ہے، مقاماتِ حریری عرب صاحب کو پسند نہ تھی؛ لیکن درسی ونصابی ضرورت کا لحاظ کرتے ہوئے بیس مقامات پڑھائے، عبدالقاہر جرجانی کی کتاب ’’دلائل الاعجاز‘‘ اُن کی پسندیدہ کتاب تھی، جسے پڑھاتے وقت انہیں بڑا لطف اور وجد آیا کرتا تھا اور اس کا حق ادا کیا کرتے تھے۔ بختری کی اشعار بھی بہت پسند تھے وہ بھی پڑھائے، تعلیم کے آخری مرحلہ میں مشہور صاحب طرز مصری ادیب مصطفی لطفی منفلوطی کی کتاب ’’النظرات‘‘ کا بھی عرب صاحب نے مطالعہ کرایا، مولانا کو اس کا اسلوب بے حد پسند آیا؛ بلکہ دل ودماغ پر چھاگیا، اور بہت سے مضامین میں اس کی تقلید بھی کی، عرب صاحب کا یہ امتیاز تھا کہ وہ پڑھاتے وقت گویا فنا فی الکتاب والدرس رہا کرتے تھے اور جمعہ کے علاوہ کسی اور دن کی رخصت کے روا دار ہرگز نہ تھے، عرب صاحب کے اصولِ تعلیم کا یہ ضابطہ تھا کہ ایک وقت میں ایک ہی زبان وفن پر پوری توجہ مرکوز کرکے تعلیم حاصل کرنی چاہئے، یہ ضابطہ تجربات کی روشنی میں دوسرے سارے طریقوں کے مقابلہ میں کامیاب اور مفید ترین ثابت ہوا، حضرت مولانا نے عرب صاحب کے یہاں دو ڈھائی سال صرف عربی زبان وادب کی تعلیم ہی میں گذارے۔ مولانا لکھتے ہیں :
’’یہی ہمارا اوڑھنا بچھونا تھا، یہی ہمارا منتہائے نظر اور سرمایۂ زندگی، اسی میں کمال پیدا کرنا ہمارے نزدیک سب سے زیادہ کامیابی اور عزت کی بات تھی، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ہمارے تمام قوائے فکریہ، ہمارے تمام حواسِ ظاہری وباطنی اس فن کے حصول اور اس کی ترقی میں مصروف اور مرکوز تھے، ہم اُن کے یہاں عربی بولتے تھے، عربی میں سوچتے اور لکھتے تھے اور یہی ہماری دنیا تھی‘‘۔ (پرانے چراغ ۱؍۲۱۷ مختصراً)