اور اس سے مستقل فائدہ اٹھایا جاتا رہے، مولانا نے اس کے جواب میں لکھا کہ اس کی سب سے زیادہ موزوں شکل یہ ہے کہ اس سے وہ اہم اور جدید کتابیں خریدی جائیں جو کتب خانہ میں نہیں ہیں ، اور علامہ کے نام کا ایک گوشہ قائم کردیا جائے جس میں یہ کتابیں رہیں ، اس تجویز کو علامہ نے پسند کیا، رقم پیش کی اور اسی پر عمل بھی ہوا۔ جولائی ۱۹۷۸ء میں کراچی مآں مولانا کی علامہ سے آخری ملاقات ہوئی، پھر نومبر ۱۹۷۸ء میں علامہ اس درفانی سے دارِ بقا کو رحلت کرگئے۔ (پرانے چراغ دوم)
نامور ادباء وشعراء
r مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ:
مولانا دریا آبادی سے مولانا کی پہلی باضابطہ ملاقات ۱۹۲۷ء میں ہوئی، تعارف ہوا تو مولانا دریا آبادی نے بڑی شفقت فرمائی، یہ تعلق حکیم عبدالقوی دریا آبادی (جو مولانا دریا آبادی کے برادر زادے اور مولانا علی میاں ؒ کے رفیق تھے) کے ذریعہ سے مضبوط تر ہوتاگیا، سب سے پہلے جو تحریر مولانا دریا آبادی کی مولانا نے پڑھی وہ ایک خطبۂ استقبالیہ تھا جو ’’خلافت کانفرنس‘‘ لکھنؤ کے لئے لکھا گیا تھا، اس خطبہ پر ادبی رنگ غالب تھا، مولانا نے یہ خطبہ بڑے لطف وذوق سے پڑھا اور مولانادریاآبادی کے قلم اور زورِ بیاں سے بے حد متأثر ہوئے۔
اسی زمانہ میں مولانا کے برادر بزرگ جناب ڈاکٹر سید عبدالعلی صاحب اور مولانا دریاآبادی کا حضرت مدنیؒ سے بیعت واسترشاد کا تعلق قائم ہوا اور ڈاکٹر صاحب مرحوم کے گھر پر حضرت مدنیؒ کا ہر سفر میں قیام ہونے لگا، چناں چہ مولانا دریاآبادی کی اب بار بار زیارت ہونے لگی۔ ۱۹۲۹ء میں مولانا دریاآبادی نے سفر حج کیا اور پھر اپنا منفرد اور اچھوتا سفرنامہ تحریر کیا، مولانا علی میاں ؒ نے اسے بڑے شغف وانہماک سے پڑھا اور بڑا گہرا اثر لیا، مولانا