’’اس عاجز کو جو روحی آرام اس شب میں حاصل ہوا تھا، جس رات کوحضرت کے استقبال میں آرام کیا تھا اسٹیشن پر، ایسی خوشی اور فرحت کی کوئی رات مجھ کو اپنی زندگی میں یاد نہیں ہے، جسمی کوفت بہت قلیل اور روحی فرحت بہت کثیر، فرحت روحی نے جسمی تکلیف کو رفع کردیا‘‘۔ (کاروانِ ادب۱۷۷، اپریل ۱۹۹۷ء)
حضرت شاہ مجددی صاحبؒ کی مجلس کی قیمتی باتیں سن کر مولانا کے دل میں ان ملفوظات کو جمع کرنے کا داعیہ پیدا ہوا، مولانا نے یہ کام مکمل کیا اور مجموعہ ’’صحبتے بااہل دل‘‘ کے نام سے طبع ہوا، مولانا نے اس میں صاحب ملفوظات کا تفصیلی تعارف بھی کرادیا ہے۔
r حضرت مولانا وصی اللہ صاحب فتح پوریؒ:
حضرت شاہ مجددی صاحبؒ کے بعد مولانا کو سب سے گہرا ربط اور عقیدت حضرت مولانا وصی اللہ صاحبؒ سے رہی، جو حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ کے اجل خلفاء میں تھے، فروری ۱۹۵۴ء میں مولانا کا حضرت سے باضابطہ تعلق شروع ہوا، مولانا ایک سفر میں فتح پور تشریف لے گئے، حضرت فتح پوریؒ نے خصوصی شفقت فرمائی، پھر جب حضرت کا قیام گورکھپور میں ہوا تو مولانا حاضر خدمت ہوئے، وہاں بھی شفقت ومحبت کا عجیب عالم تھا، مولانا بے حد متأثر ہوئے اور واپس آکر ایک مکتوب میں حضرت کی شفقت اور ذرہ نوازی کا ذکر کرتے ہوئے یہ مصرعہ بھی لکھ دیا کہ: