عرب صاحب کے طرزِ تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے:
’’اپنے ذوق ونظر کو اپنے طلبہ تک منتقل کردینے اور ان کے رگ وریشہ میں اتار دینے کی عجیب وغریب قابلیت، زیر درس کتاب میں جان ڈال دینے، فن کا صحیح ذوق پیدا کردینے اور منصف کا ہم زبان اور ہم مذاق بنادینے کی ان میں وہ بے نظیر قدرت تھی جو ہزاروں میں سے کہیں کسی ایک استاذ اور ماہر فن میں ہوتی ہے، یہ قابلیت کسی نہیں ؛ بلکہ وہبی ہے، عربی زبان وادب کا وہ ذوق سلیم وذوق صحیح، پھر اس ذوق کو منتقل کرنے کی وہ قابلیت جو عرب صاحب میں دیکھی وہ نہ صرف ہندوستان؛ بلکہ ممالک عربیہ کے اعلیٰ علمی وعربی حلقوں میں بھی شاذ ونادر ہی شاید پائی جائے‘‘۔ (کاروانِ زندگی ۱؍۹۰-۹۱)
مزید لکھتے ہیں :
’’واقعہ یہ ہے کہ اس مدرسہ (خلیل عرب صاحب کے خانگی مدرسہ) سے ہندوستان میں عربی تعلیم اور عربی انشاء وتحریر کے اس نئے تدور کا آغاز ہوا، جس کو علامہ تقی الدین ہلالی مراکشی کی آمد اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ وفضلاء نے نقطہ عروج تک پہنچادیا‘‘۔
(پرانے چراغ ۱؍۲۰۹ مختصراً)
صرف ونحو کی بعض قدیم کتابیں میزان ومنشعب، صرف میر ونحومیر، پنج گنج وغیرہ مولانا نے اپنے چچا مولانا سید عزیز الرحمن حسنیؒ سے پڑھیں ، اس کے علاوہ صرف ونحو کی مزید تعلیم اپنے مولانا سید محمد طلحہ حسنیؒ سے بھی حاصل کی، جو صرف ونحو کے امام تھے اور عملی مشق کرانے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ:
’’صحیح عبارت پڑھنے اور صرف ونحو کے ضروری مسائل کے جزوِ دماغ بن جانے میں ان کا بڑا دخل ہے، وہ ادبی نحوی صرفی غلطی، عبارت کا غلط پڑھنا معاف نہیں کرتے تھے، اور کئی کئی دن تک اس پر طنز فرماتے اور چٹکیاں لیتے رہتے، جس کی وجہ سے بڑا چوکنا اور ہوشیار رہنا پڑتا تھا، عربی زبان وصرف ونحو کے علاوہ ان سے اور بہت سے علمی فوائد حاصل ہوئے‘‘۔ (کاروانِ زندگی ۱؍۱۰۱)
۱۹۲۷ء میں مولانا نے لکھنؤ یونیورسٹی کے فاضل ادب میں داخل لیا، داخلہ کے امتیان