مولانا کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’سیرت سید احمد شہیدؒ جب حضرت تھانویؒ کے پاس پہنچی تو حضرت تھانویؒ نے بڑی مسرت کا اظہار کیا اور بار بار اس کا مطالعہ فرماتے رہے۔
دیگر اکابر دیوبند میں شیخ التبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ، حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، حضرت مولانا مناظر احسن گیلانیؒ، حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوریؒ، امام اہل سنت مولانا عبدالشکور فاروقیؒ، اور اپنے بزرگ ومعاصر علماء سے مولانا کے گہرے روابط اور ان کے مولانا سے تعلقات، محبت اور اعتماد کی تفصیلات بڑی طویل ہیں جن کا کچھ ذکر آگے آئے گا۔
بعض کوتاہ قامت اور کینہ پرور افراد مولانا کے بارے میں اس طرح کے تأثرات ظاہر کررہے ہیں کہ مولانا کا تعلق دارالعلوم سے برائے نام تھا اور اس میں کسی قلبی عقیدت ومحبت کو نہیں ظاہری مروت ورواداری اور حالات کے تقاضوں کو دخل تھا، دراصل یہ مولانا کی شخصیت اور وقار کو مجروح کرنے اور ان کی زندگی کے ایک اہم اور روشن باب کو چھپانے کی ناپاک کوشش ہے، مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والے اور ان کی مجلسوں میں شریک رہنے والے افراد بخوبی واقف ہیں کہ انہیں دارالعلوم سے کتنا جذباتی تعلق تھا، حضرت مدنیؒ کے ذکر میں انہیں کتنی لذت ملتی تھی اور کتنا لطف آتا تھا اور دارالعلوم کی ترقی کی انہیں کتنی فکر رہا کرتی تھی۔
مولانا نے جب بھی ہندوستان کے مدارس اور دینی خدمات کا تذکرہ کیا، ہر موقع پر سب سے پہلے دارالعلوم اور اکابر دارالعلوم کا ذکر کیا، پھر مظاہر علوم اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کا ذکر کیا، یہ ان کے دل کی صدا تھی جو وہ دارالعلوم اور اکابر دارالعلوم کو ہر جگہ نمایاں کرکے پیش فرماتے تھے، وہ حقیقت پسند تھے اور دارالعلوم کو اپنا مادر علمی سمجھتے اور ظاہر کرتے تھے، دارالعلوم کا تعارف انہوں نے اپنی کتابوں خصوصاً القراء ۃ الراشدۃ حصہ سوم، الصراع بین الفکرۃ الاسلامیۃ والفکرۃ الغربیۃ، المسلمون فی الہند وغیرہ میں بڑے بلند لفظوں میں فرمایا، اجلاس صد سالہ کے موقع پر ’’مرکز العلم والثقافۃ الاسلامیۃ فی