ہوسکے گا، بہرحال جو نوشتۂ تقدیر تھا وہ ہوکر رہا، {وکان امر اللّٰہ قدراً مقدوراً}حضرت قاری صاحبؒ کے ساتھ اساتذہ وطلبہ کا جو طبقہ دارالعلوم سے باہر آیا، اس نے وقف دارالعلوم کے نام سے الگ ادارہ قائم کرلیا، بحمد اللہ دونوں ادارے ہنوز مصروفِ عمل ہیں ۔۔
حضرت مولانا کا دونوں اداروں سے ربط وتعلق تھا؛ البتہ دیوبند کی حاضری خود مولانا کی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے کم ہوتی جارہی تھی، اکتوبر ۱۹۸۶ء میں دارالعلوم میں ختم نبوت کے موضوع پر ایک عظیم کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں عالم عرب کے بعض علماء شریک ہوئے، حضرت مولانا بھی تشریف لے گئے اور افتتاحی اجلاس میں ختم نبوت اور قادیانیت کے تعلق سے بڑا پرمغز خطاب فرمایا، نیز ردّقادیانیت وفرقِ باطلہ کے سلسلہ میں دارالعلوم اور اکابر دارالعلوم کی گراں قدر خدمات کو سراہا اور واضح کیا۔
اپنے اساتذۂ دارالعلوم کے علاوہ دیوبند کے دیگر اکابر سے مولانا کا بڑا گہرا ربط تھا، خصوصاً حکیم الامت حضرت تھانویؒ (جو بلاشبہ حلقہ دیوبند کے بے حد ممتاز؛ بلکہ قابل صد افتخار عالم ومصلح ہیں ) سے مولانا کو بے حد عقیدت تھی، خود حضرت تھانویؒ مولانا سے بڑی محبت وشفقت اور قدر ونوازش کا معاملہ فرماتے تھے، اس کا اظہار اس مکتوبِ گرامی سے ہوتا ہے جو مولانا کے نام حضرت تھانویؒ نے تحریر فرمایا اور اس میں مولانا کو ’’مجمع الکمالات‘‘ کے الفاظ سے مخاطب فرمایا، حضرت تھانویؒ کے بارے میں یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ وہ کتنی محتاط ومعتدل شخصیت کے مالک تھے، پھر بھی انہوں نے مولانا کو جو اس وقت کل ۱۹؍سال کے تھے، اس طرح کے بلند پایہ الفاظ سے مخاطب فرمایا جو خود حضرت تھانویؒ کی فراست وبصیرت اور مولانا علی میاں ؒ کے کمال وفضل کی دلیل ہے، اس مکتوب پر مولانا نے جو تبصرہ کیا وہ ان کے توضع کی دلیل ہے:
’’اس شفقت نامہ پر اس کے سوا کچھ اور نہیں کہا جاسکتا کہ…… کلاہِ گوشۂ دہقاں بآفتاب رسید‘‘۔ (پرانے چراغ ۱؍۱۲۳-۱۲۴)