الہند دارالعلوم دیوبند‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر کتابچہ بھی مولانا کا طبع ہوا اور تقسیم کیا گیا تھا، اس کے علاوہ مولانا نے متعدد عربی اور اردو مضامین میں دارالعلوم کا ذکر کیا ہے، ہندوپاک کے بعض گمراہ طبقوں نے جب جماعتی مفادات، شخصی مصالح اور ایک خاص مشرب وطریقۂ کار کو فائدہ پہنچانے کے لئے مدارس واکابر دینی تحریکات ومراکز اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے اور شکوک وشبہات پیدا کرنے کا کام بڑے شدومد سے شروع کردیا، تو مولانا نے اس کی تردید کے لئے ایک مقالہ ’’اضواء‘‘ کے نام سے عربی میں تحریر فرمایا، جس کا اردو ترجمہ ’’بصائر‘‘ کے نام سے طبع ہوا، اس میں ہندوستان کے مدارس وتحریکات اور اکابر کا ایک مختصر سا خاکہ بڑے بلیغ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے، اس میں دیوبند اور اکابر دیوبند کا تذکرہ بڑے اچھے انداز میں آیا ہے، ان کی ناقابل فراموش دینی وعلمی خدمات کا ذکر آیا ہے اور غلط فہمیاں دور کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔
دارالعلوم کے پیغام اور اس کے افکار کی تبلیغ وترویج میں دارالعلوم کے اس فرزند وعقیدت مند اور حضرت مدنی کے اس شاگرد ارجمند کا حصہ بھی کسی سے کم نہیں ہے، دارالعلوم کے ابناء اور ان کی طویل ترین اور وسیع ترین زریں خدمات اور دارالعلوم کے مشن کو عام کرنے اور اسے مادی ومعنی ترقیات سے مالامال کرنے کے تئیں ان کی مساعی اور بے لوث کوششوں کی جب بھی تاریخ مرتب کی جائے گی، حضرت مولانا علی میاں ؒ کا نام ان میں سرفہرست ہوگا۔
ہم اس مضمون کا خاتمہ مولانا ہی کے اس جملہ پر کرتے ہیں جو مولانا نے طلبہ دارالعلوم کو خطاب کرتے ہوئے ۱۹۷۲ء میں فرمایا تھا اور اس سے بڑھ کر کسی اور جملہ سے اس بے پایاں تعلق کا اظہار نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا نے فرمایا تھا:
’’میں آپ سے انہیں الفاظ میں جو کبھی زبانِ نبوت سے حضراتِ انصار واہل مدینہ کے لئے نکلے تھے کہہ سکتا ہوں کہ: ’’المحیا محیاکم والممات مماتکم‘‘ (جینا بھی