معراج کا سفر |
|
سجدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ناک میں مہار ڈال دی اور فرمایا: نافرمان جن اور انسان کے علاوہ جتنی چیزیں آسمان وزمین میں ہیں سب جانتی ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ (۱)دوسرا معجزہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دریائے شور میں تھا (کہ میرا) جہاز ٹوٹ گیا۔ میں ایک تختے پر بیٹھ گیا اور بہتے بہتے میں ایک جنگل میں پہنچا وہاں مجھے ایک شیر ملا اور میری طرف آیا میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آزادکردہ غلام ہوں۔ وہ شیر میری طرف آیا اور اپنا کندھا میرے بدن کو مارا، اور میرے ساتھ چلنے لگا۔ یہاں تک کہ مجھے راستے پر لے آیا، اور تھوڑی تھوڑی دیر ٹھہر کر باریک کچھ آواز کرتا رہا، اور اپنی دم سے میرا ہاتھ چھوا، میں سمجھا کہ مجھے رخصت کر رہا ہے۔ فائدہ: پہلا قصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کا ہے، اور دوسرا وفات کے بعد کا ہے۔تیسرا معجزہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں دودھ کاایک پیالہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ تمام اصحابِ صفہ کو بلاؤ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھوکے تھے۔ انہوں نے اپنے دل میں کہا: مجھی کو دے دیتے تو میں پیٹ بھر کر پی لیتا، میں ان سب کو بلالایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں دودھ پلاؤ، میں نے پلانا شروع کیا ،یہاں ------------------------------ (۱) احمد، عن جابرؓ