معراج کا سفر |
|
زندگی کے ہر موڑ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یاد رکھا ہے حتی کہ وفات کے موقع پر بھی اور دنیا سے جاتے ہوئے بھی امت کے غم میں روئے ہیں، آخری وقت میں بھی امت کا غم اورفکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستارہا ہے… مگر افسوس صدافسوس! آج امت اپنے اس محسن نبی کو کیا بدلہ دے رہی ہے، نبی کی زندگی سے دور ہٹتی جارہی ہے، نبی کی معاشرت، نبی کے رہن سہن اور طور طریقوں کوچھوڑتی جارہی ہے اور نبی کے دشمنوں کے طریقوں کواپنا رہی ہے۔ امت کے اعمال جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوتے ہوںگے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر کیا گذرتی ہوگی، اللہ تعالیٰ صحیح سمجھ عطا فرمائے۔حبیب اور محبوب کے درمیان راز ونیاز معراج کی اس رات میں مقام ِقرب میں حبیب اور محبوب کے درمیان بہت ساری راز ونیاز کی باتیں ہوئیں۔ فَاَوْحیٰ اِلیٰ عَبْدِہِ مَا اَوْحیٰ بیہقی کی ایک لمبی روایت میں ہے کہ اللہ کے حبیب اسے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور فرمایا … سَلْ… مانگئے، کیا مانگتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، میرے مولیٰ اِتَّخَذْتُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً وَاَعْطَیْتَہُ مُلْکاً عَظِیْماً آپ نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور ملکِ عظیم عطا فرمایا۔ وَکَلَّمْتَ مُوْسیٰ تَکْلِیْمًا… اور موسیٰ علیہ السلام سے آپ نے کلام فرمایا، ان کو کلیم بنایا۔