معراج کا سفر |
|
فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہِ مَا اَوْحٰی… اور لَقَدْ رَأٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی… پس اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے پر جو وحی بھیجی، البتہ تحقیق کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، نماز اور دیگر تحفے عطا ہوئے۔ اس کے بعد آسمانوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملائکہ کے ساتھ بیت المقدس پر اترے اور ایک روایت کے اعتبار سے براق وہیں قبۃ الصخرا پر بندھا ہوا تھا، وہاں سے براق پر سوار ہوکر رات ہی رات مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے واقعہ بیان کیا حضرت اُمِّ ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں سوئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی پھر سوگئے، اور ہم بھی سوگئے۔ جب فجر سے پہلے کا وقت ہوا تو ہم کو رسول اللہا نے جگایا، جب آپ صبح کی نماز پڑھ چکے اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ، تو فرمایا ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا تھا، پھر میں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نمازپڑھی، پھر اب صبح کی نماز میں نے تمہارے ساتھ پڑھی جیساکہ تم لوگ دیکھ رہے ہو۔ پھر آپ باہر جانے کے لئے اٹھے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کاکندہ پکڑلیا