معراج کا سفر |
|
جبرئیل علیہ السلام نے کہا اللہ کے نبی ! ہُدِیْتَ الْفِطْرَۃَ اَمَااِنَّکَ لَوْاَخَذْتَ الْخَمْرَ لَغَوَتْ اُمَّتُکَ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کو اختیار کیا، اگر آپ شراب کو اختیار کرتے تو آپ کی امت گمراہی میں پڑ جاتی۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیالوں کا پیش ہونا بیت المقدس کے امور سے فراغت کے بعد ہوا جیسا کہ پہلے گذرا۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ عجب نہیں کہ یہ پیالے دو مرتبہ پیش کئے گئے ہوں، ایک مرتبہ مسجد اقصیٰ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ پر۔ (۱)سدرہ سے آگے کا سفر اور جبرئیل علیہ السلام کی مَعْذِرَت اب سدرۃ المنتہیٰ سے آگے کاسفرشروع ہورہا ہے ، یہاں پر حضرت جبرئیل علیہ السلام رک گئے اور آگے چلنے سے معذرت کردی۔ شفاء الصدور میں حضرت ابن عباس سے رضی اللہ عنہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور میرے رب کی طرف چلنے کے سفر میں میرے ساتھ رہے، یہاں تک کہ ایک مقام (سدرۃ المنتہیٰ)پر پہنچ کر رک گئے، میں نے کہا جبرئیل! کیا ایسے مقام میں کوئی دوست اپنے دوست کو چھوڑتا ہے، انہوں نے کہا اللہ کے حبیب ا ! یہاں تک ہماری پرواز ختم ہوگئی، یہ ہماری آخری حد ہے، اگر میں اس مقام سے آگے بڑھوں گا تو نور سے جل جاؤں گا۔ ------------------------------ (۱) حاشیہ سیرت مصطفی ج۱/۲۹۹